خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 516
خطبات مسرور جلد 14 516 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2016 کہتی ہیں ہم اپنے رب سے راضی ہیں کہ اللہ ہی کے ہیں اور اللہ کی باتیں اللہ جانے، ہمارا کام دعا کرنا تھا۔خدا کا کام قبول کرنا ہے، کرے یانہ کرے۔کہتی ہیں مظہر جاتے جاتے بھی ہماری اصلاح کر گیا۔13 ستمبر عید کے دن صبح مظہر کو شدید کھانسی تھی۔اس نے مجھے قہوہ بنانے کا کہا۔بستر پر جا کے لیٹ گیا۔جب جا کے دیکھا تو بہت سخت تیز بخار تھا۔ایمبیولینس کو بلایا اور اس نے جاتے جاتے پھر کہا کہ آج عید ہے آپ لوگ عید پڑھنے جائیں اور ہسپتال میرے ساتھ آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔تھوڑی دیر بعد میں وہاں سے فون کر کے آپ کو بلالوں گا۔اور میں بھی وہاں جا کر اپنے فون پر عید کا خطبہ سن لوں گا۔اس بیماری میں بھی اس نے ان چیزوں کو یاد رکھا۔صبح اس کی وفات ہوئی۔مظہر کی آواز اچھی تھی۔اس نے اپنے فون میں صبح نماز یا تہجد کے لئے الارم ریکارڈ کیا ہوا تھا۔ان کی بہن کہتی ہیں کہ جب اس کا آخری سانس تھا، وفات کا وقت ہو رہا تھا تو اس وقت اسی کی آواز میں ایک دم فون پر اذان کی آواز شروع ہو گئی جس نے ان لوگوں کو اور زیادہ جذباتی کر دیا۔لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ کی یہ رضا تھی۔بیشمار واقعات انہوں نے لکھے ہیں۔جب اس کو کینسر کی بیماری کا پتا لگا تو ان کی بہن عروبہ کہتی ہیں کہ کہنے لگا کہ میں ہر چیز برداشت کر سکتا ہوں لیکن اپنی ماں کو روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا اس لئے ان کو بڑی احتیاط سے بتانا اور اس کا bone marrow ہوا اور ان کی بہن کا ہی میچ کر گیا تو اس کو دیا گیا اور ڈاکٹر بھی حیران تھے۔پہلے کہتے تھے نہیں ہو سکتا لیکن بہر حال میچ کر گیا اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو شفا بھی دے دی تھی لیکن بہر حال آخری تقدیر یہی تھی۔chemotherapy کے دوران بھی ڈاکٹروں کو تبلیغ کرتا رہا اللہ پر بڑا تو کل تھا اور کسی بات کی فکر نہیں تھی۔ہمیشہ یہی کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے ضائع نہیں کرے گا۔بہر حال اللہ تعالیٰ اب یہاں سے لے کے گیا ہے تو انشاء اللہ اگلے جہان میں امید ہے اس کی خواہشات پوری ہو رہی ہوں گی۔ڈاکٹر حفیظ صاحب کہتے ہیں کہ میں مظہر کو کینسر کی diagnosis کے بعد گلاسگو ملنے گیا تو اسے بہت متوکل انسان پایا اور وہاں ان کی والدہ نے کہا کہ یہ ہمیشہ یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے احسانات کو ہمیشہ یاد کرتے رہیں۔گلاسگو سے مکرمہ بینظیر عبد الرافع صاحبہ کہتی ہیں میر اسری لنکا سے تعلق ہے اور مظہر کی والدہ اور ان کی بیٹیاں ہماری بڑی قریبی دوست ہیں۔جب کینسر diagnose ہوا تو ان کی فیملی سے مزید تعارف ہوا۔ان کی عیادت کے لئے ہسپتال گئے تو بڑی تسلی اور تحمل سے اپنی بیماری کے متعلق بتایا۔پھر جب کچھ عرصہ بیچ میں اس بیماری سے ٹھیک رہا تو گلاسگو میں ایک پانچ کلو میٹر کی چیریٹی واک تھی اس میں بھی شامل ہوا اور کہتا ہے یہ تو بڑی آسان تھی۔میں نے بڑی آسانی سے کر لی۔حالانکہ ایک لمبی بیماری میں سے گزرا تھا۔Chemotherapy وغیرہ خود ایک تکلیف procedure ہے۔ده