خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 515 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 515

خطبات مسرور جلد 14 515 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2016 ان کو بتاتارہتا تھا کس طرح کام کرنا ہے۔اسی طرح سکاٹ لینڈ میں ناصرات اور لجنہ کا اجتماع تھا تو وہاں اس نے ان کے لئے سندات ڈیزائن کیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا باقاعدہ مطالعہ کرنے والا تھا۔12 ستمبر کو دوبارہ جب اس کو دوسرے انفیکشن کا حملہ ہوا ہے ( غالباً یہی دن تھے ) تو کہتی ہیں مجھے بلایا اور کہا کہ میرے پاس آکر بیٹھیں اور پھر کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اپنی انگلیوں پر گئیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو گننا شروع کیا۔اور پھر کہتا ہے اور فضل گنائیں۔تو کہتی ہیں کہ میں نے اس سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے اتنے فضل ہیں کہ میں گن نہیں سکتی۔اس پر مظہر نے کہا کہ بس آپ کو یہی بتانا چاہ رہا تھا کہ خدا تعالیٰ کے فضلوں اور اس کے احسانوں کو ہمیشہ یاد رکھیں اور اس کا ہر حال میں شکر ادا کرتی رہیں۔کہتی ہیں اس وقت مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مظہر یہ کیا کہہ رہا ہے لیکن بہر حال ذہنی طور پہ تیار بھی کر رہا تھا۔کہتی ہیں کہ تبشیر کے مہمان سکاٹ لینڈ آئے تو آخری قافلے کے انچارج راجہ بر ہان صاحب تھے۔وہ مظہر کو ملے اور بہت خوش ہوئے کہ اس کی صحت اچھی ہے۔کہتی ہیں میں نے مربی صاحب کو کہا کہ مظہر کو جماعت کا کام کرنے کا بہت جنون ہے۔ہر وقت پلان بناتا رہتا ہے کہ آئندہ میں اس طرح کام کروں گا، اس طرح کام کروں گا۔مربی بنوں گا تو یہ کروں گا۔جب اس کو 2015ء کے اکتوبر میں یہ کینسر کی بیماری diagnose ہوئی تو اپنی بہن کو کہنے لگا کہ امی کو بہت احتیاط سے بتانا۔ان کو میں روتا نہیں دیکھ سکتا۔ہسپتال میں نماز، تلاوت اور ایم ٹی اے پر خطبات ضرور سنتا تھا۔آن لائن پروگرامز میں نظمیں، تصویریں وغیرہ سب دیکھتا۔کلاس فیلوز کے ساتھ باتیں بھی اس کی ہوتیں۔اساتذہ کے ساتھ باتیں ہوتیں۔ڈاکٹرز اور نرسز سے جماعت کی تبلیغ کی باتیں ہوتیں۔آخر وقت تک ہسپتال میں اپنی treatment ہمیشہ بیٹھ کر کروائی اور ڈاکٹروں کو پیس کا نفرنس کے حوالے سے، جلسہ کے حوالے سے، جماعت کی مختلف ایکٹویٹیز (activities) کے حوالے سے ہمیشہ تبلیغ کرتا رہتا تھا۔یہاں جلسہ کے بعد جو مر بیان کی میٹنگ ہوتی ہے اس میں اس کی کلاس بھی جو جامعہ سے پاس ہو کر فارغ ہو گئی تھی شامل ہوئی تو ان کو اس نے لکھ کے بھیجایا پیغام دیا کہ جو بھی میٹنگ کے پوائنٹس ہیں وہ مجھے بھی لکھ کر بھیجیں تا کہ میں بھی انہیں اپنی زندگی کا حصہ بناؤں کیونکہ میٹنگ میں شامل نہیں ہو سکتا تھا۔اسے خلافت سے انتہائی پیار تھا اور جب عزیزم رضا کی اچانک وفات کا پتا لگا تو اس کی والدہ کہتی ہیں کہ میں نے پہلی دفعہ اسے اس طرح روتے دیکھا ہے۔میں پہلے گھبرا بھی گئی۔لیکن بہر حال اس کو یہ بھی فکر تھی کہ اچانک وفات ہوئی ہے اور والدین کو بھی اور خلیفہ وقت کو بھی بڑا صدمہ ہو گا۔