خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 29 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 29

خطبات مسرور جلد 14 29 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2016 اب میں نمازوں کے بعد دو جنازے غائب پڑھاؤں گا۔پہلا جنازہ مکرم محمد اسلم شاد منگل صاحب کا ہے جو 31 دسمبر 2015ء کو رات دس بج کر چالیس منٹ پر تقریباً 71 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔دل کی تکلیف تو ان کو تھی۔چیک آپ کے لئے ہسپتال گئے تھے۔وہیں ان کو ڈاکٹر نے جو دیکھا تو انہوں نے کہا کہ حالت ٹھیک نہیں ہے اور ان کو داخل کر لیا۔پھر ان کو ہارٹ اٹیک ہوا۔پھر وینٹی لیٹر (Ventilator) پر شفٹ کیا گیا۔پھر دوبارہ ان کو اس دوران میں ہی ہسپتال میں فالج کا بھی حملہ ہوا اور ہارٹ اٹیک بھی ہوا۔پھر گر دوں کی تکلیف بھی شروع ہو گئی اور ڈائلیسز (Dialysis) کیا جاتا رہا۔بہر حال جب تیسری بار ان کو وہیں ہسپتال میں ہارٹ اٹیک ہوا تو پھر باوجود شاک (Shock) دینے کے ریکوری (Recovery) مشکل تھی۔آخر اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ان کے والد کا نام حاجی صالح محمد منگلا تھا۔ان کا تعلق 168-171 چک منگلا سر گودھا سے ہے۔والدہ کا نام صاحب بی بی تھا اور 1955ء میں آپ کے والد حاجی محمد صالح صاحب کی سر براہی میں چک منگلا کے 80 افراد نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی مصلح موعودؓ کے ہاتھ پر ربوہ آکر بیعت کی تھی اور اس کا ذکر بھی حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا ہے کہ ایک جماعت ملی تھی۔ان میں بچوں میں مکرم محمد اسلم صاحب شاد منگلا بھی شامل تھے۔ان کی عمر اس وقت صرف دس سال تھی۔انہوں نے پرائمری تک تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی۔پھر ربوہ سکول میں داخل کرنے کے لئے ان کے والد لے کے آئے۔تعلیم الاسلام ہائی سکول میں چھٹی کلاس میں داخلہ مل گیا۔ان کے والد نے ان کو حضرت خلیفہ المسیح الثالث "صاحبزادہ مرزا ناصر احمد جو اس وقت کالج کے پرنسپل تھے ان کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک چڑیا آپ کے سپرد کر رہا ہوں اسے باز بنا دیں۔چنانچہ حضرت خلیفہ ثالث نے کہا کہ ٹھیک ہے۔انشاء اللہ باز بنے گا اور اللہ تعالیٰ نے بعد میں ماشاء اللہ ان کو کافی خدمت کی توفیق دی۔61ء میں انہوں نے میٹرک پاس کیا۔پھر تعلیم الاسلام کالج سے بی اے کیا۔پنجاب یونیورسٹی سے ایم۔اے عربی کیا اور وہاں بھی پوزیشن لی۔پھر 1966ء میں ایم۔اے عربی مکمل کرنے کے بعد 1980 ء تک یہ 14 سال بطور لیکچرر تعلیم الاسلام کا لج ربوہ میں خدمت بجالاتے رہے۔سکول کالج 1973ء میں شاید 74-75ء میں قومیائے گئے تھے۔بہر حال 1980ء میں حکومت کی طرف سے احمدی اساتذہ کے مختلف مقامات پر تبادلوں کی وجہ سے آپ نے وہاں سے استعفیٰ دے دیا کیونکہ آپ خدمت کرنا چاہتے تھے اس لئے مطمئن نہ ہوئے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش ہوئے اور وقف کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا۔حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میرے دفتر میں آجائیں۔دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں ان کو رکھ لیا اور تین ماہ کے بعد آپ کو اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری بنا دیا۔1982ء میں حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے آپ کو پرائیویٹ سیکرٹری مقرر کیا اور تاوقت وفات آپ ربوہ میں پرائیویٹ سیکرٹری