خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 514
خطبات مسرور جلد 14 بھروسہ کرنا ہے۔" 514 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2016 ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 45) پس اللہ تعالیٰ پر ہی ہمیشہ بھروسہ ہونا چاہئے۔عزیز مرحوم بھی صبر اور حوصلہ کی تلقین کرتا ہوا اس دنیا سے رخصت ہوا ہے۔غم اور دکھ تو ہوتا ہے جو قدرتی بات ہے اور ماں باپ، بہن بھائیوں کو سب سے زیادہ ہو تا ہے۔لیکن اس غم اور دکھ کو دعاؤں میں ڈھال کر ہم مرحوم کے درجات کی بلندی اور اپنے لئے صبر اور تسکین کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان قریبیوں کو بھی اس کی توفیق عطا فرمائے۔اس کا کچھ ذکر میں کر تاہوں۔اس بچے کو کینسر ہوا تھا اور اللہ کے فضل سے علاج سے اس کی شفا بھی ہو گئی تھی لیکن بعد میں کوئی ایسی سینہ کی انفیکشن ہوئی جس کا ڈاکٹروں کو پتا نہیں چل سکا اور جس کی وجہ سے وفات ہو گئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔مرحوم کے پڑدادا حضرت مستری نظام الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور ان کے نانا محترم چوہدری منور علی خان صاحب اور دادا حاجی منظور احمد صاحب دونوں درویشان قادیان میں سے تھے۔جیسا کہ میں نے کہا یہ جامعہ احمدیہ کے طالبعلم تھے۔موصی بھی تھے۔بعض مختصر باتیں کروں گا کیونکہ لمبی تفصیل میں بعض ایسی جذباتی باتیں ہیں جن کو شاید بیان کرنا مشکل ہو لیکن بہر حال مختصر آمیں ذکر کرتا ہوں۔ان کی والدہ کہتی ہیں کہ مجھے مشورہ دینے والا، میرا راز دان اور ایک استاد کی طرح میری تربیت کرنے والا تھا۔ہم میں ماں اور بیٹے کے رشتے کے ساتھ ساتھ ایک انوکھی قسم کی understanding بھی تھی۔وہ مجھے اچھی طرح سمجھتا تھا اور میں اس کو۔اس کو یہ بھی پتا تھا کہ میری ماں کن چیزوں سے خوش ہوتی ہے اور کن سے نفرت کرتی ہے۔کہتی ہیں کہ اکثر وہ مجھ سے خلافت کے نظام، خلیفہ وقت اور جماعت اور سب سے بڑھ کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اور آپ کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتیں کیا کرتا تھا اور یہی topic اسے پسند تھے۔اگر کوئی دنیاوی باتیں بیچ میں آجائیں تو تھوڑی دیر بعد وہ کہتا ان کو چھوڑیں، ہمارا ان سے کیا مطلب۔اس کی خواہش تھی کہ اس سال جلسہ پر آئے لیکن اس کو احساس ہو گیا کہ ذرا مشکل ہو گا۔اس لئے ایم ٹی اے پر سننا ہی اس نے مناسب سمجھا اور باقی گھر والوں کو بھیج دیا کہ آپ لوگ جائیں میں اکیلا یہاں سن لوں گا اور manage کر لوں گا۔آپ فکر نہ کریں۔(گلاسگو میں تھا) اس طرح بیماری کے باوجو د گھر والوں کو اس نے بھیج دیا کہ آپ جا کے جلسہ سنیں۔اپنے سارے کام خود کرنے کی عادت تھی۔اور کہتی ہیں کہ بیماری کے دوران اس کے مزاج میں مزید ٹھہراؤ اور نرمی آگئی تھی اور کبھی بھی کوئی چڑ چڑا پن اور غصہ اس کی طبیعت میں نہیں دیکھا گیا۔جیسا کہ میں نے کہا اسے خون کا کینسر تھا۔پہلی بیماری سے جب ٹھیک ہو گیا تو کمزوری تھی لیکن امیر صاحب سکاٹ لینڈ سے اس نے کہا کہ مجھ سے کچھ جماعتی کام لیں اور پھر اس نے وہاں نیوز لیٹر بناناشروع کیا اور پھر باقی بھی جو کام کرنے والے تھے ان سے اِن ٹچ (in touch) رہتا تھا۔