خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 513
خطبات مسرور جلد 14 513 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2016 خواہشات دین پر حاوی ہو جاتی ہیں۔اس لئے ہر احمدی بچی کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور اپنے عہد کو بار بار دہراتے رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر احمدی بچی بجائے فضول دنیاوی خواہشات کے پیچھے چلنے کے اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لئے کوشش کرنے والی ہو۔اور وہ اعلیٰ مقاصد ناصرات کے عہد میں یہ بیان کئے گئے ہیں کہ مذہب، قوم اور وطن کی خدمت کے لئے تیار رہنا، ہمیشہ سچائی پر قائم رہنا، خلافت احمدیہ کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار رہنا۔پس اگر ہماری بچیاں اس عہد کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنالیں تو جہاں اپنی زندگیاں محفوظ کر لیں گی وہاں آئندہ نسلوں کی زندگیوں کو بھی محفوظ کرنے والی ہوں گی اور انہیں خلافت سے جوڑنے والی ہوں گی۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی توفیق عطا فرمائے اور یہ اجتماع جو ہو رہے ہیں ان کو ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے۔اجتماع کے حوالے سے اس مختصر بات کے بعد اب میں ایک پیارے عزیز کا ذکر خیر کرنا چاہتا ہوں جو گزشتہ دنوں ہم سے جدا ہوا۔چند ہفتے پہلے ایک حادثہ کے نتیجہ میں ایک عزیز ہم سے جد ا ہوا تھا اور چند دن پہلے جامعہ احمد یہ یوکے کا ایک اور بہت پیارا طالبعلم اور نوجوان جو جامعہ کی تعلیم تقریباً مکمل کر چکا تھا کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد ہم سے جد اہوا ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ جس بچہ کا میں ذکر کر رہا ہوں اس کا نام مظہر احسن تھا۔بیماری کی وجہ سے آخری سال کا امتحان نہیں دیا تھا لیکن جیسی اس عزیز نوجوان نے زندگی گزاری ہے وہ مربی اور مبلغ ہی تھا، امتحان پاس کر تایا نہ کرتا۔اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کے اندر ایک جوش پیدا کیا ہوا تھا کہ اس نے کس طرح دین کی خدمت کرنی ہے۔کس طرح اپنے اخلاق اور اپنی حالت کو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے حکموں کے مطابق ڈھالنا ہے اور اس پر عمل کرنا ہے۔ہر انسان جو دنیا میں آیا اس نے ایک دن یہاں سے جانا ہے لیکن خوش قسمت ہوتے ہیں وہ جو اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔اس پیارے عزیز کے بارے میں جامعہ احمدیہ کے طلباء، اس کے دوست، اس کے اساتذہ مجھے لکھ رہے ہیں۔اور یہ صرف رسمی باتیں نہیں ہیں کہ کوئی شخص فوت ہو گیا تو اس کا ذکر خیر کرو بلکہ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ وہ اخلاص و وفا اور عمل کا ایک نمونہ تھا۔اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔عزیز مرحوم والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔اس کی دو بہنوں اور والدین نے بھی، خاص طور پر والدہ نے صبر کا اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہونے کا بہترین نمونہ دکھایا ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی جزا دے اور ان کو صبر میں بڑھاتا رہے۔ان سب کو اپنی جناب سے تسکین اور صبر کے سامان مہیا فرمائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا کہ: " یاد رکھو کہ مصیبت کے زخم کے لئے کوئی مرہم ایسا تسکین وہ اور آرام بخش نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ پر