خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 512
خطبات مسرور جلد 14 512 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2016 ماشاء اللہ دین پر وفا کے ساتھ قائم ہے۔اعتقادی لحاظ سے اکثر مضبوط ہیں۔لیکن ہر لجنہ ممبر کو، ہر احمدی عورت کو اپنی عملی حالتوں کو بھی اس معیار پر لانا ہو گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ لجنہ اماء اللہ کا بھی ایک عہد ہے اور اپنے فنکشنز اور اجتماعوں پر یہ عہد دہراتی بھی ہیں کہ ہم اپنے مذہب کی خاطر ہر قربانی کے لئے تیار رہیں گی۔تو پہلی قربانی جو مذہب مانگتا ہے وہ یہ ہے کہ اپنی تمام دنیاوی خواہشات کو پیچھے کر کے اپنی عملی حالت کو مذہب کی تعلیم کے مطابق ڈھالیں۔ایک احمد کی عورت میں سچائی کے اعلیٰ معیار قائم ہونے چاہئیں۔پھر عورت سے متعلق جو احکامات ہیں اس پر عمل کرنے کی کوشش ہے۔عورت کو اپنے تقدس اور اپنی عصمت کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو باتیں بتائی ہیں ان میں پردہ کو بہت اہم قرار دیا ہے۔اگر اس میں کسی احمدی عورت میں کمزوری ہے تو وہ عملاً اپنے عہد کو پورا نہیں کر رہی۔پس نہ معاشرے کا خوف، نہ ہی اپنی دنیاوی خواہشات ایک احمدی کو مذہب کی تعلیم سے دور کرنے والی ہو۔بلکہ ہر احمدی عورت کو اپنی عملی حالت کو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق گزارنے والا ہونا چاہئے۔پھر ایک عہد سچائی پر ہمیشہ قائم رہنے کا عہد ہے۔اس میں ہر ایک کو اپنے معیاروں کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم سچائی کی حقیقی روح کے ساتھ اس پر قائم ہیں کہ نہیں۔اسی طرح اولاد کی تربیت کا عہد ہے اس کو بھی بھر پور طور پر پورا کرنے کی کوشش ہونی چاہئے کہ وہ دین سے وابستہ ہیں کہ نہیں۔بچہ کی سب سے اعلیٰ تربیت گاہ اس کی ماں ہے۔پس اس کے لئے ماؤں کو بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔اگر ہماری ساری عورتیں یہ ذمہ داری ادا کرنے والی ہو جائیں بلکہ حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ پچاس فیصد بھی ہو جائیں تو نسلوں کی حفاظت کی وہ ضمانت بن جائیں گی۔(ماخوذ از لجنہ اماء اللہ سنجیدگی سے عورتوں کی اصلاح کرے۔انوار العلوم جلد 17 صفحہ 296) ان کے دین کو سنوارنے والی بن جائیں گی۔ان کا خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑنے والی بن جائیں گی۔اسی طرح اپنی اولاد میں اپنی قوم اور ملک کے لئے قربانی کا جذبہ پیدا کرنا بھی ماؤں کا کام ہے اور یہ بھی عہد ہے۔آپ کے عہد میں شامل ہے۔ان کے ذہنوں کو مکمل طور پر قوانین کی پابندی کے لئے تیار کرناماؤں کا کام ہے۔برائی اور اچھائی میں تمیز پیدا کر وانا ماؤں کا کام ہے۔ملک کی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کرنا، اس کی طرف توجہ دلاناماؤں کا کام ہے۔خلافت سے بچوں کو جوڑنا اور اس کے لئے کوشش کرنا جیسا باپوں کا کام ہے ویسا ہی ماؤں کا بھی کام ہے۔پس اس اہم ذمہ داری کو ہر ماں کو سمجھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی توفیق عطا فرمائے۔اسی طرح ناصرات الاحمدیہ کا اجتماع بھی لجنہ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ناصرات بھی عہد کرتی ہیں۔ان کو بھی اپنے عہدوں کو نبھانا چاہئے۔چودہ پندرہ سال کی عمر ہوش کی عمر ہوتی ہے اور اچھا برا سمجھنے کی عمر ہوتی ہے اور یہ آخری عمر ہے ناصرات کی اور اس عمر میں ہی بہت ساری خواہشات بھی ہوتی ہیں۔اگر دنیا کی طرف نظر ہو تو دنیاوی