خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 509 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 509

خطبات مسرور جلد 14 509 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2016 بات پر کینہ اور بغض پیدا ہو جاتا ہے اور آپس میں لڑ جھگڑ پڑتے ہیں۔ایسے لوگوں کا جماعت سے کچھ حصہ نہیں ہو تا۔" فرمایا اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں کیا وقت پیش آتی ہے کہ اگر کوئی گالی دے تو دوسر اچپ کر رہے اور اس کا جواب نہ دے۔ہر ایک جماعت کی اصلاح اول اخلاق سے شروع ہوا کرتی ہے۔چاہئے کہ ابتدا میں صبر سے تربیت میں ترقی کرے اور سب سے عمدہ ترکیب یہ ہے کہ اگر کوئی بد گوئی کرے تو اس کے لئے درد دل سے دعا کرے۔"صبر سے پہلے اپنی تربیت کرو اور دوسرے کی تربیت بھی کرو اور اس کے لئے ذریعہ یہ ہے کہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کر دیوے۔اور دل میں کینہ کو ہر گز نہ بڑھاوے۔" فرمایا " خدا تعالیٰ ہر گز پسند نہیں کرتا کہ حلم اور صبر اور عفو جو کہ عمدہ صفات ہیں ان کی جگہ درندگی ہو۔اگر تم ان صفات حسنہ میں ترقی کرو گے تو بہت جلد خدا تک پہنچ جاؤ گے۔" فرمایا " یہ سچ ہے کہ سب انسان ایک مزاج کے نہیں ہوتے۔"طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں۔فرمایا " اسی لئے قرآن شریف میں آیا ہے۔كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ (بنی اسرائیل: 85 )۔"یعنی ہر ایک اپنی جبلت کے مطابق عمل کرتا ہے۔لیکن آپ فرماتے ہیں کہ " بعض آدمی ایک قسم کے اخلاق میں اگر عمدہ ہیں تو دوسری قسم میں کمزور۔اگر ایک خلق کا رنگ اچھا ہے تو دوسرے کا برا۔" فرمایا لیکن تاہم اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اصلاح ناممکن ہے۔" ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 127-128) طبیعتیں ہر ایک کی اللہ تعالیٰ نے بنائی ہیں۔بعضوں کے بعض اخلاق بہت اچھے ہیں۔اس میں ترقی ہے لیکن دوسرے میں کمزوری ہے لیکن فرمایا اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ اصلاح ناممکن ہو جائے اور تمام اخلاق نہ اپنائے جائیں۔پس بیشک انسان کی طبیعتیں مختلف ہیں۔جن میں کمزوریاں ہیں ان میں کچھ اچھائیاں بھی ہیں۔یہ نہیں کہ ہر کسی میں صرف کمزوریاں ہی کمزوریاں ہیں اور اچھائی کوئی نہیں۔اچھائیاں بھی ہیں کمزوریاں بھی ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے ہمیں اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے اور وہ اعلیٰ اخلاق اپنانے چاہئیں جو ایک حقیقی مومن کا معیار ہیں۔کمزوریاں دور کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتے رہنا چاہئے اور اس بات کی کوشش ہونی چاہئے کہ ہم اپنے ماحول کو پر امن بنانے کی کوشش کریں اور اس کے لئے جو اصول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اپنے لئے پسند کرتے ہو یا اپنے لئے چاہتے ہو وہ اپنے بھائی کے لئے بھی چاہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ تو فیق عطا فرمائے کہ ہم ان معیاروں کو حاصل کرنے والے ہوں۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 14 / اکتوبر 2016 ء تا 20 / اکتوبر 2016ء جلد 23 شمارہ 42 صفحہ 05 تا 08)