خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 510 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 510

خطبات مسرور جلد 14 510 40 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2016ء بمطابق 30 تبوک 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن۔لندن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج سے مجلس انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ یوکے (UK) کا اجتماع شروع ہو رہا ہے۔ہمارے اجتماعات کی اصل روح تو یہ ہے جس کے لئے کوشش ہونی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور آپس میں محبت و اخوت میں بڑھا جائے۔علمی پروگرام اور مقابلے اس روح کے ساتھ ہونے چاہئیں کہ ہم نے ان باتوں سے کچھ سیکھ کر اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے۔بعض کھیلوں کے بھی پروگرام ہوتے ہیں تو اس لئے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے صحتمند جسم بھی ضروری ہے ورنہ نہ ہی انصار اللہ کی کھیل کود کی عمر ہے اور نہ ہی بائیس تنیس سال کی عمر کے بعد عموماً عور تیں کھیلوں میں کوئی زیادہ شوق رکھتی ہیں۔پس ورزشی مقابلوں کا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ اپنی جسمانی صحت کی طرف توجہ رہے اور صرف مقابلوں میں حصہ لینے والے نہیں بلکہ دوسرے بھی کم از کم سیر یا پھر ہلکی پھلکی ورزش سے اپنے جسموں کو چست رکھیں۔تو بہر حال ان اجتماعوں کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ ہمیں اپنی دینی اور علمی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی طرف توجہ ہو۔صدر صاحب انصار اللہ نے مجھے کہا کہ خطبہ میں انصار کو مخاطب کر کے کچھ کہہ دیں۔انصار اللہ کی عمر تو ایک ایسی عمر ہے جس میں انسان کی سوچ mature ہوتی ہے ، پختہ ہوتی ہے اور خود انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہئے اور ان ذمہ داریوں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ایک تو پختہ عمر ہونا اور دوسرے ان بڑی عمر کے لوگوں کی مجلس کا نام انصار اللہ ہونا ہر ممبر کو، ہر احمدی مرد کو جو چالیس سال سے اوپر ہے اپنی ذمہ داری کی ادائیگی کا احساس دلانے کے لئے کافی ہے۔یہ ذمہ داری یا ذمہ داریاں کیا ہیں جن کو ایک ناصر کو ادا کرنا چاہئے ؟ ان کا خلاصہ انصار اللہ کے عہد میں بیان ہو گیا۔پہلی بات یہ کہ ہر ناصر، ہر شخص جو مجلس انصار اللہ کا نمبر ہے اسلام کی مضبوطی اور احمدیت پر سچے دل