خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 508
خطبات مسرور جلد 14 508 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2016 انسان حیران رہ جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : "خدا کے مقربوں کو بڑی بڑی گالیاں دی گئیں۔بہت بری طرح ستایا گیا۔مگر ان کو آغرِضْ عَنِ الجاھل تین کا ہی خطاب ہوا۔خود اس انسان کامل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بری طرح تکلیفیں دی گئیں۔اور گالیاں، بد زبانی اور شوخیاں کی گئیں۔مگر اس خُلق مجسم ذات نے اس کے مقابلہ میں کیا کیا۔ان کے لئے دعا کی۔اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر لیا تھا کہ جاہلوں سے اعراض کرے گا تو تیری عزت اور جان کو ہم صحیح و سلامت رکھیں گے اور یہ بازاری آدمی اُس پر حملہ نہ کر سکیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضور کے مخالف آپ کی عزت پر حرف نہ لا سکے اور خود ہی ذلیل و خوار ہو کر آپ کے قدموں پر گرے یا سامنے تباہ ہوئے۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 103) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو عفو اور درگزر کے کن معیاروں کو حاصل کرنے کی نصیحت فرمائی۔اس بارے میں روایات میں بہت سے واقعات ملتے ہیں ایک آدھ میں پیش کرتا ہوں۔ایک دفعہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ! میرا ایک غلام ہے جو غلط کام کرتا ہے کیا میں اسے بدنی سزا دے سکتا ہوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس سے ہر روز ستر مر تبہ در گزر کر لیا کرو۔(مجمع الزوائد جلد 4 صفحہ 309 كتاب العتق حديث 7231 مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت) یعنی بہت زیادہ در گذر کیا کرو۔پس ملازموں اور ماتحتوں سے حسن سلوک کا یہ وہ معیار ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا۔یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ آجکل غلامی نہیں ہے اور ایک مومن ملازم سے بھی یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ بھی اس کے ذمہ جو فرائض ہیں ان کا بھی حق ادا کرنے والا ہو۔صرف اس لئے کہ در گزر کا حکم ہے اس لئے ہر کام خراب کرتا جائے یہ بھی غلط چیز ہے۔جس طرح اور جگہوں پر یہ بھی حکم ہے کہ جو کام کسی کے ذمہ کیا گیا ہے اس کو ادا کرنے کا بھی پورا حق ادا کرنا چاہئے۔پس دونوں طرف یہ حکم ہے۔جہاں مالک کو ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض نہ ہو، درگزر کرے وہاں ملازم کے لئے بھی یہی ہے کہ اپنے ذمہ جو ذمہ داری ہے ان کا بھی پورا حق ادا کرے۔عفو اور در گذر کے بارے میں ہمیں نصیحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: " جماعت کو تیار کرنے سے غرض یہی ہے کہ زبان، کان، آنکھ اور ہر ایک عضو میں تقویٰ سرایت کر جاوے۔تقویٰ کا نور اس کے اندر اور باہر ہو۔اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ ہو۔اور بے جا غصہ اور غضب وغیرہ بالکل نہ ہو۔" فرمایا کہ " میں نے دیکھا ہے کہ جماعت کے اکثر لوگوں میں غصہ کا نقص اب تک موجو د ہے تھوڑی تھوڑی سی