خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 507 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 507

خطبات مسرور جلد 14 507 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2016 کر اس نے بیعت کر لی۔اس کے بعض سوالوں کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا اور پوچھا کہ کیا تم ابوسفیان کی بیوی ہند ہو ؟۔اس نے کہا ہاں یارسول اللہ ! اب تو میں دل سے مسلمان ہو چکی ہوں۔جو پہلے ہو چکا اس سے در گزر فرمائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہند کو معاف فرما دیا۔ہند پر آپ کے عفو کا ایسا اثر ہوا کہ اس کی کایا ہی پلٹ گئی۔بہت مخلص ہو گئی۔بلکہ اسی دن شام کو اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی اور دو بکرے بھون کر کھانے کے لئے بھجوائے اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ آجکل جانور کم ہیں اس لئے حقیر سا تحفہ پیش ہے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ !ہند کے ریوڑوں میں بہت برکت ڈال۔چنانچہ کہتے ہیں کہ اس دعا کے نتیجہ میں ایسی برکت پڑی کہ اس کے ریوڑ سنبھالے نہیں جاتے تھے۔(سيرت الحلبية جلد3 صفحہ 137 تا 139 باب فتح مكة شرفها الله تعالى مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی بن سلول کو ہر ایک جانتا ہے۔اس کی تمام تر گستاخیوں کے باوجود اس کو معاف فرمایا اور اس کا جنازہ بھی پڑھا دیا۔باوجود اس کے کہ حضرت عمرؓ بار بار عرض کرتے تھے کہ اس کا جنازہ نہ پڑھائیں۔کعب بن زہیر ایک مشہور شاعر تھا بعض باتوں کی وجہ سے اس کے لئے بھی سزا کا حکم ہو چکا تھا۔فتح مکہ کے بعد ان کے بھائی نے اسے لکھا کہ اب آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگ لو۔چنانچہ وہ مدینہ آکر اپنے ایک جاننے والے کے پاس ٹھہر گئے اور فجر کی نماز مسجد نبوی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ادا کی۔نماز کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ! کعب بن زہیر تائب ہو کر آیا ہے اور معافی کا خواستگار ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے شکل سے پہچانتے نہیں تھے۔اس لئے اس نے کہا کہ اگر اجازت ہو تو اسے پیش کیا جائے۔آپؐ نے فرمایا کہ ہاں آجائے سامنے۔اس پر اس نے کہا کہ یارسول اللہ ! میں ہی کعب بن زہیر ہوں۔اس پر ایک انصاری اسے قتل کرنے کے لئے اٹھے کیونکہ اس کے متعلق حد لگنے کی وجہ سے قتل کا فیصلہ ہو چکا تھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ معافی کا خواستگار ہو کر آیا ہے اسے چھوڑ دو۔اس کے بعد اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک قصیدہ پیش کیا جس پر آپ نے خوشنودی کا اظہار فرماتے ہوئے اپنی (صحيح البخارى كتاب الجنائز باب ما يكره من الصلاة على المنافقين۔۔۔الخ حديث 1366) چادر بھی اسے اوڑھا دی۔(تاريخ الخميس جلد دوم باب اسلام كعب بن زهير صفحہ 121 مطبوعه مؤسسة شعبان بيروت) پس یہ تھا آپ کی معافی کا معیار کہ نہ صرف معاف فرماتے تھے بلکہ انعام دے کر، دعائیں دے کر رخصت فرماتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو کی بے شمار مثالیں ہیں۔ایسے معراج پر پہنچا ہو اعفو ہے کہ