خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 506
خطبات مسرور جلد 14 506 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2016 کو اس بارے میں کیا نصائح فرمائی ہیں۔حضرت امام حسن کی مثال میں نے دی تھی کہ انہوں نے اپنے ملازم کی ایک غلطی پر معاف کر دیا لیکن وہ ایک چھوٹی سی غلطی تھی۔معاف کرنے کی معراج تو ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آتی ہے کہ جن لوگوں کی سزا کے فیصلہ بھی ہو گئے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی معاف فرما دیا۔کسی دوسرے کے قصور وار کو معاف نہیں کیا بلکہ اپنے قصور واروں کو، اپنی اولاد کے قاتلوں کو معاف کر دیا کیونکہ ان کی اصلاح ہو گئی تھی۔روایات میں ایک واقعہ آتا ہے کہ ایک شخص صبار بن اسود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ، صاحبزادی حضرت زینب پر مکہ سے مدینہ ہجرت کرتے وقت نیزے سے قاتلانہ حملہ کیا۔آپ اس وقت حاملہ تھیں۔حملہ کی وجہ سے آپؐ کا حمل بھی ضائع ہو گیا۔زخمی بھی ہوئیں، چوٹ لگی اور اس چوٹ کی وجہ سے آپ کی وفات بھی ہو گئی۔اس جرم کی وجہ سے ھبار کے لئے قتل کی سزا کا فیصلہ ہوا۔فتح مکہ کے موقع پر یہ شخص بھاگ کر کہیں چلا گیا مگر بعد میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس تشریف لائے تو ھبار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ رحم کی بھیک مانگتا ہوں۔پہلے میں آپ سے ڈر کر فرار ہو گیا تھا لیکن مجھے آپ کا عفو اور رحم واپس لے آیا ہے۔اے خدا کے نبی ! ہم جاہل تھے، مشرک تھے ، خدا نے ہمیں آپ کے ذریعہ ہدایت دی اور ہلاکت سے بچایا۔میں اپنی زیادتیوں کا اعتراف کرتا ہوں۔پس میری جہالت سے صرف نظر فرماتے ہوئے مجھے معاف فرمائیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کے اس قاتل کو معاف فرما دیا اور فرمایا کہ جااے ھبار ! میں نے تجھے معاف کیا اور پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے تمہیں اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔پس جب آپ نے دیکھا کہ اصلاح ہو گئی ہے تو اپنی بیٹی کے قاتل کو بھی معاف فرما دیا۔( تاريخ الخميس جلد دوم باب ذكر الرجال الاحد عشر الذين اهدر دمهم يوم فتح مكة صفحه 93 مطبوعه موسسة شعبان بيروت) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر ہونے والی کسی زیادتی کا کبھی انتقام نہیں لیا۔(صحیح مسلم کتاب الفضائل باب مباعدته للآثام۔۔۔الخ حديث 5944) تبھی تو آپ نے کھانے میں زہر ملا کر کھانا کھلانے والی یہودیہ کو بھی معاف فرما دیا تھا حالانکہ بعض صحابہ کو زہر کا اثر بھی ہو گیا تھا۔(سیرت ابن هشام باب بقية امر خيبر جلد اول صفحہ 626-627 مطبوعه المكتبة العصرية بيروت) پھر ہند جس نے جنگ اُحد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چا حضرت حمزہ کا مثلہ کیا تھا۔ان کے جسم کے اعضاء کاٹے تھے۔کان ناک وغیرہ کاٹے تھے اور کلیجہ نکال کر چبایا تھا۔فتح مکہ کے موقع پر عورتوں کے ساتھ مل