خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 505 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 505

خطبات مسرور جلد 14 505 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2016 ہے کہ ان میں قصوروں کو معاف کرنے کی عادت ہونی چاہئے اور قصور کی نوعیت اور مجرم کی حالت اور سابقہ رویے کے مطابق فیصلہ ہونا چاہئے۔نہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ آنکھیں بند کر کے ہر ایک کو معاف کرتے چلے جاؤ، نہ یہ کہ غضبناک ہو کر سزائیں دینے کی طرف ہی رجحان ہو۔معاف کرتے چلے جانے سے بھی معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور سزا دیتے چلے جانے سے بھی رنجشیں اور کینے بڑھتے ہیں اور معاشرے میں نفرتوں کی دیواریں کھڑی ہوتی ہیں اور بدامنی پھیلتی چلی جاتی ہے۔اگر ہم جائزہ لیں ، اپنے ماحول پر نظر ڈالیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ وہ لوگ جن کا قصور کیا گیا ہو وہ اس بات کا شدت سے اظہار اور مطالبہ کرتے ہیں کہ مجرم کو سزا دینی ضروری ہے تاکہ دوسروں کے لئے یہ سزا عبرت کا ذریعہ بنے اور کسی کو کسی قسم کی غلطیاں کرنے کی جرات نہ ہو۔اور مجرم جس نے قصور کیا ہو وہ یہ کہتا ہے کہ معاف کرنا چاہئے۔آجکل ہیومن رائٹس کی تنظیمیں بھی بہت سی بن گئی ہیں وہ جہاں بعض اچھے کام کر رہی ہیں وہاں معاف کروانے میں بھی بہت زیادہ افراط سے کام لیتے ہوئے ہر مجرم کو معاف کروانے کی کوشش کرتی ہیں۔اسی طرح جو مجرم دین کے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی کچھ شدھ بدھ رکھتے ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ معاف کرو اس لئے معاف کرنا چاہئے کیونکہ خدا خود بھی بندوں کو معاف کرتا ہے۔اس لئے تم بھی بندوں کا حق ادا کرتے ہوئے معاف کرو۔انفرادی طور پر بھی ہر ایک اپنے قصور وار کو معاف کرے اور جماعتی طور پر بھی ہر ایک کو معاف کیا جائے قطع نظر اس کے کہ اس سے جماعت کو فائدہ ہو رہا ہے یا نقصان تاکہ بندوں کے حق ادا ہوں۔دونوں طرف سے یہ باتیں کرنے والے جو بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے ہیں یا تو عادی مجرم ہوتے ہیں یا انصاف سے ہٹ کر اپنے حق میں فیصلہ کروانا چاہتے ہیں۔ایک تو جرم کرتے ہیں پھر جرم کی سزا سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حکم کا ناجائز حوالہ دیتے ہیں یہ لوگ خود غرض ہوتے ہیں۔اگر ان کا کوئی قصور کرے تو کبھی معاف نہیں کرتے بلکہ بڑھ بڑھ کر مجرم کو سزا دلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔گویا ان کا اصول یہاں بدل جاتا ہے۔اس وقت اس حکم کو بھول جاتے ہیں کہ دوسرے کے لئے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو۔اسی طرح جو معاف نہیں کرنا چاہتے اور چاہتے ہیں کہ ضرور میرے قصور وار کو سزا ملے وہ بھی اگر اپنا معاملہ ہو تو معافیاں مانگ کر کہیں گے کہ معاف کرنا اچھا ہے۔اسلام ایسے خود غرضوں کی باتوں کو رد کرتا ہے اور انتہائی انصاف پر مبنی فیصلہ دیتا ہے کہ اگر یہ یقین ہے کہ معاف کرنے سے اصلاح ہو گی تو بہتر ہے کہ معاف کر دو۔اگر یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ سزا کے بغیر گزارہ نہیں تو سزا ضروری ہے۔بہر حال یہ تو اسلام کی ایک اصولی تعلیم ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس حد تک معاف فرمایا کرتے تھے اور آپ نے صحابہ