خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 28 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 28

خطبات مسرور جلد 14 28 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2016 وصولی کے لحاظ سے امریکہ کی پہلی دس جماعتیں۔سلیکون ویلی، Seattle ، ڈیٹرائٹ، سنٹرل ورجینیا، لاس اینجلس ایسٹ، سلور سپرنگ، یارک / ہیرس برگ، بوسٹن ،Houston North اور Dallas ہیں۔وصولی کے لحاظ سے جرمنی کی پانچ لوکل امار تیں یہ ہیں۔ہیمبرگ نمبر ایک پہ۔پھر فرینکفرٹ، گروس گیر اؤ، پھر ویز بادن، مور فلڈن والڈ ورف۔اور مجموعی وصولی کے لحاظ سے جو دس جماعتیں ہیں وہ Roedermark، نوالیس، فریڈ برگ، Florsheim، کو بلنز،Hanau، ہنوفر، نیڈا، وائن گارٹن اور فلڈا ہیں۔کینیڈا کی تین جو امار تیں ہیں وہ نمبر ایک پہ کیلگری۔نمبر دو پہ وان۔نمبر تین پر وینکوور ہیں۔پانچ بڑی جماعتیں۔ملٹن جارج ٹاؤن نمبر ایک پر۔پھر ڈر ہم۔پھر ایڈمنٹن ویسٹ۔پھر سسکاٹون نارتھ اور پھر آٹو اویسٹ ہیں۔اطفال میں کینیڈا کی پانچ نمایاں جماعتیں۔ڈر ہم نمبر ایک پر۔پھر کیلگری نارتھ ویسٹ۔ملٹن جارج ٹاؤن۔پھر پیس ولیج ایسٹ۔وڈ برج ہیں۔میں کئی مرتبہ پہلے بھی توجہ دلا چکا ہوں کہ دفتر اطفال میں جس طرح کینیڈا میں آر گنائز ہو کر کام ہو رہا ہے باقی دنیا کے جو بڑے ممالک ہیں ان کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہیئے اور کام کرنا چاہئے۔اس بارے میں یہ بھی بتادوں کہ دفتر اطفال صرف وقف جدید میں ہوتا ہے ، تحریک جدید میں نہیں ہو تا۔مجموعی وصولی کے لحاظ سے بھارت کے صوبہ جات میں کیرالہ نمبر ایک۔تامل ناڈو نمبر دو۔جموں و کشمیر۔تیلنگانا۔پھر کرناٹکا۔پھر ویسٹ بنگال۔پھر اُڈیشہ۔پھر پنجاب۔پھر اتر پردیش۔پھر دہلی۔پھر مہاراشٹرا ہیں۔اور وصولی کے لحاظ سے جو جماعتیں ہیں نمبر ایک پے کارولائی۔کالیکٹ۔پھر حیدرآباد۔پھر پاٹھا پر یام۔پھر قادیان۔پھر کانور ٹاؤن۔پھر کلکتہ۔پھر سُوٹور۔پھر مینگلور ، پینگاڈی اور ریشی نگر۔آسٹریلیا کی دس جماعتیں ملبرن ساؤتھ ، کاسل ہل، ماؤنٹ ڈروئیٹ، پینز تھ ، ایڈیلیڈ ساؤتھ ، پلمپٹن، بر زبن ساؤتھ ، بر زبن لوگان ، مارز ڈن پارک اور بلیک ٹاؤن ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا آسٹریلیا میں کسی نے مجھ سے سوال پوچھا تھا کہ وقف جدید میں اطفال کا دفتر ہے۔تحریک جدید میں بھی ہے ؟ تو واضح ہو کہ تحریک جدید میں کوئی نہیں۔اطفال سے جو چندہ وصول کیا جاتا ہے اور خاص طور پر زور دیا جاتا ہے وہ وقف جدید کے لئے ہے اور اس کے لئے علیحدہ دفتر ہے۔اللہ تعالیٰ تمام قربانی کرنے والوں کے اموال اور نفوس میں بے انتہا برکت ڈالے اور اس سال میں اللہ تعالیٰ پہلے سے بڑھ کر جہاں قربانی کی توفیق دے وہاں تعداد میں بھی اضافہ فرمائے۔