خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 504 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 504

خطبات مسرور جلد 14 504 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2016 بیباک ہو جائے تو ایسا شخص خدا تعالیٰ سے بڑا اجر پائے گا۔" یعنی معاف کرنے والا اجر پائے گا۔والا پھر براہین احمدیہ میں آپ فرماتے ہیں کہ : تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 163) بدی کی پاداش میں اصول انصاف تو یہی ہے کہ بد کن آدمی اسی قدر بدی کا سزاوار ہے جس قدر اس نے بدی کی ہے۔پر جو شخص عفو کر کے کوئی اصلاح کا کام بجالائے یعنے ایسا عفو نہ ہو جس کا نتیجہ کوئی خرابی ہو سو اس کا اجر خدا پر ہے۔" ( براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد اول صفحہ 433-434 حاشیه در حاشیہ نمبر 3) یعنی معاف کرنا اصلاح کے لئے ہو جائے تو بڑی اچھی بات ہے اور وضاحت اس کی یہ ہے کہ خرابی نہ پیدا ہو ایسی معافی سے۔اگر کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی تو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کا معاف کرنے والے کو جو اجر ملے گا وہ خدا تعالیٰ کے پاس ہے جتنا چاہے وہ دے دے۔پس عفو اور معاف کرنا اس وقت ہے جب قصور وار کا رویہ نظر آتا ہو کہ وہ آئندہ یہ غلط کام نہیں کرے گا۔بعض عادی مجرم ہوتے ہیں اور ہر مرتبہ جرم کر کے معافی مانگتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے سزا ضروری ہوتی ہے اور سزا پھر اس طرح ہو کہ اس سے اس کی اصلاح کا پہلو نکلتا ہو۔11۔پھر ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ : " بدی کا بدلہ اسی قدر بدی ہے جو کی گئی۔لیکن جو شخص عفو کرے اور گناہ بخش دے اور اس عفو سے کوئی اصلاح پیدا ہوتی ہو نہ کوئی خرابی تو خدا اس سے راضی ہے اور اسے اس کا بدلہ دے گا۔پس قرآن کے رو سے نہ ہر یک جگہ انتقام محمود ہے " یعنی نہ انتقام لینا ہر جگہ ضروری ہے اور تعریف کے قابل ہے اور نہ ہر ایک جگہ عفو قابل تعریف ہے۔نہ معاف کرنا قابل تعریف ہے۔بلکہ محل شناسی کرنی چاہئے۔" یہ دیکھنا چاہئے کہ موقع کیسا ہے ؟ فائدہ کس میں ہے ؟ سزا میں یا معافی میں۔" اور چاہئے کہ انتقام اور عفو کی سیرت بپابندی محل اور مصلحت ہو۔نہ بے قیدی کے رنگ میں۔یہی قرآن کا مطلب ہے۔" کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 30) یہ کوئی نہیں ہے کہ کسی اصول کے بغیر ، کسی ضابطے کے بغیر سزادی جائے یا بلا وجہ معاف کر دیا جائے۔اس کے لئے کوئی حدود ہیں۔ان حدود کے اندر رہنا چاہئے اور یہ چیز دیکھنی چاہئے کہ فائدہ کس میں ہے۔پس یہ ہے اسلامی سزا اور معافی کی حکمت کہ اصلاح مد نظر ہو۔آجکل دنیاوی قانون میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر جرم کی سزادی جاتی ہے اور پھر جیلوں میں اس لئے رکھا جاتا ہے کہ اصلاح ہو لیکن خود یہاں کے ترقی یافتہ ملکوں کے بھی تجزیہ نگار اب لکھنے لگ گئے ہیں کہ جیلوں میں جب مجرم سزا کاٹ کے نکلتے ہیں تو جرموں میں اور بھی بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔اس لئے کہ سزا دینے والے بھی اور مجرم بھی صرف قانون کی پابندی کر رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا خوف ان میں نہیں ہو تا۔بہر حال مومنوں کو عام ہدایت یہی