خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 503
خطبات مسرور جلد 14 503 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2016 یہ بھی واضح ہو جیسا کہ میں نے کہا کہ سزا دینے کا اختیار بھی ہر ایک کو نہیں ہے۔یہ کہہ دیں کہ میں نے سوچا اور میری عقل سزا دینے کا کہتی ہے اس لئے سزا دیتا ہوں۔سزا دینا تو اب اس زمانے میں متعلقہ اداروں کا کام ہے۔معاف تو انسان بے شک اپنے قصور وار کو خود کر سکتا ہے لیکن سزا دینے کے لئے بہر حال قانون کی مدد چاہئے یا متعلقہ ادارے کی مدد چاہئے۔اس بات کو انسان اگر ہر وقت سامنے رکھے تو آپس میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر جو لڑائیاں ہو رہی ہوتی ہیں وہ نہ ہوں۔ایک دوسرے پر مقدمے بازی کر کے جو وقت اور رقم کا ضیاع ہو رہا ہو تا ہے وہ نہ ہو۔مقدمہ عدالت میں لے جانے پر اگر ایک عدالت کسی قصور وار کو معاف کرتی ہے تو دوسرے فریق کا غیظ و غضب مزید بھڑکتا ہے کہ اس کو معاف کیوں کر دیا یا اس کو کم سزا کیوں دی گئی۔اور وہ انگلی عدالت میں مقدمہ لے جاتا ہے۔اور معاملات بھی ایسے نہیں ہوتے کہ کوئی بڑے خوفناک ہوں۔بڑے چھوٹے چھوٹے معاملات ہوتے ہیں۔قضا میں بھی اس طرح کے معاملات آتے ہیں۔اور بعض احمدی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم نے قضا سے فیصلہ نہیں کروانا۔عدالت میں چلے جاتے ہیں۔حالانکہ وہ کوئی ایسی بات نہیں ہوتی کہ جس پہ مقدمے بازیاں کی جائیں اور اس وجہ سے وہ اپنا نقصان بھی کر رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں غصہ دبانے کے بعد جو معاف کرنے کا کہا ہے تو بغیر کسی حکمت کے نہیں کہا کہ معاف کرتے چلے جاؤ۔بلکہ معافی اور سزا کی حکمت بتاکر فیصلہ کرنے کا کہا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَجَزَاؤُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ (الشورى : 41) وَجَزَاؤُ سَيْئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُها اور بدی کا بدلہ کی جانے والی بدی کے برابر ہوتا ہے۔پس جو کوئی معاف کرے بشر طیکہ وہ اصلاح کرنے والا ہو تو اس کا اجر اللہ پر ہے۔یقیناوہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔پس اصل چیز مجرم کو اس کے جرم کا احساس دلا کر اصلاح کرنا ہے نہ کہ بدلہ لینا، متقدمہ بازیوں میں پھنسانا، اپنا بھی مال ضائع کرنا اور دوسرے کا بھی مال ضائع کروانا۔اپنا بھی وقت ضائع کرنا اور دوسرے کا وقت ضائع کروانا اور اگر جماعتی اداروں میں بات ہے تو ان پر بدظنیاں کرنا۔اگر معاف کرنے سے اصلاح ہو جاتی ہے تو معاف کرنا بہتر ہے۔اگر سزا دینا اصلاح کے لئے ضروری ہے تو حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ سزا دی جائے اور پھر بیشک متعلقہ اداروں تک معاملہ لے جایا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر حکمت حکم کے بارے میں کئی جگہ تحریر فرمایا ہے۔ایک جگہ آپ تریاق القلوب میں فرماتے ہیں کہ : " قانون انصاف کی رو سے ہر ایک بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے۔لیکن اگر کوئی شخص اپنے گناہگار کو معاف کرے بشر طیکہ اس معاف کرنے میں شخص مجرم کی اصلاح ہو نہ یہ کہ معاف کرنے سے اور بھی زیادہ دلیر اور