خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 502 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 502

خطبات مسرور جلد 14 502 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2016 نہیں نکل سکتیں۔وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آکر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹ لطائف کے چشمہ سے بے نصیب اور محروم کئے جاتے ہیں۔" جو گالیاں نکالنے والا ہے، بے لگام بولنے والا ہے وہ پھر ایسی باتیں جو حکمت کی باتیں ہیں، جو گہری باتیں ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ باتیں ہیں ان سے محروم ہو جاتا ہے۔فرمایا " غضب اور حکمت دونو جمع نہیں ہو سکتے۔جو مغلوب الغضب ہوتا ہے۔اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے۔اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دیئے جاتے۔غضب نصف جنون ہے جب یہ زیادہ بھڑکتا ہے تو پورا جنون ہو سکتا ہے۔" (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 126-127) پھر آپ فرماتے ہیں کہ " یادر کھو کہ عقل اور جوش میں خطرناک دشمنی ہے۔" عقل مند آدمی میں بلاوجہ کا جوش پیدا نہیں ہو تا جو غصہ کا جوش ہو۔فرمایا کہ "جب جوش اور غصہ آتا ہے تو عقل قائم نہیں رہ سکتی۔لیکن جو صبر کرتا ہے اور بردباری کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو ایک نور دیا جاتا ہے جس سے اس کی عقل و فکر کی قوتوں میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے۔غصہ اور جوش کی حالت میں چونکہ دل و دماغ تاریک ہوتے ہیں اس لئے پھر تاریکی سے تاریکی پید اہوتی ہے۔" (ملفوظات جلد سوم صفحہ 180) پس اسلام کی تعلیم بڑی حکمت والی ہے کہ جو غلطی کر دی جائے تو فیصلہ کرتے وقت اگر انسان کسی چیز کے خلاف بھی ہو، کسی شخص کے خلاف بھی ہو، کوئی سزا ایسا معاملہ ہو تو تب بھی سوچ سمجھ کر اس کا فیصلہ کرنا چاہئے نہ کہ مغلوب الغضب ہو کر۔بعض جگہ سختی کرنی پڑتی ہے لیکن غضب میں آکر غصہ میں آکر سختی کرنا جائز نہیں۔اسلام میں سزاؤں کا تصور ہے لیکن اس کے لئے اصول و قواعد ہیں۔غضب میں آکر سزا حکمت سے دور لے جاتی ہے، انصاف سے دور لے جاتی ہے۔اس لئے آپ نے فرمایا کہ غضب میں آکر اگر سزا دو گے تو یہ دل کی سختی بن جائے گی اور جب دل سخت ہو جائیں تو پھر معارف اور حکمت کی باتیں منہ سے نہیں نکلتیں بلکہ عقل ماری جاتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ غصہ کو دباؤ۔دماغ کو ٹھنڈا کرو۔پھر سزا دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرو بشر طیکہ اس کا اختیار بھی رکھتے ہو۔یہ نہیں کہ ہر ایک کو اٹھ کے سزا دینے کا اختیار مل گیا۔غصہ کو دبانے کے لئے صبر کا مادہ ہو ناضروری ہے۔پس صبر کے معیاروں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔آپ نے فرمایا کہ صبر کرنے والوں کی عقل و فکر کی قوتوں کو روشنی ملتی ہے۔ان کی سوچیں بالغ ہوتی ہیں۔ان کو روشنی ملتی ہے۔ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی رہنمائی ملتی ہے۔اگر ایک مومن کسی بھی بات کا عقل سے کوئی فیصلہ کرنے والا ہو چاہے وہ نا پسندیدہ بات ہو تو ان کے فیصلہ میں جلد بازی نہیں ہوتی بلکہ صبر سے ، سوچ سمجھ کے فیصلہ کرتے ہیں بلکہ مثبت اور منفی پہلو دیکھ کر تفصیل میں جا کر پھر فیصلے ہوتے ہیں۔