خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 501 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 501

خطبات مسرور جلد 14 501 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2016 پس پہلے تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اللہ تعالیٰ کے ان بندوں کے حق کی ادائیگی کے لئے خرچ کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے جو ضرورتمند ہیں۔محسن تو ہے ہی وہ جو دوسروں کے کام آنے والا ہو۔ان کو فائدہ پہنچانے والا ہو۔نیکیوں پر قائم رہنے والا ہو۔تقویٰ پر چلنے والا ہو۔پس جو نیکیوں پر قائم رہنے والا اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کی خاطر اور تقویٰ پر چلتے ہوئے فائدہ پہنچانے والا ہو یقیناوہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں بے نفس ہوتا ہے۔چُھپ کر اور ظاہر اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر خرچ کرتا ہے۔اور جب یہ حالت انسان میں پید اہو جائے تو پھر وہ خود غرضیاں نہیں دکھاتا۔اپنے بھائی کے لئے برائی نہیں چاہتا۔اور ایسے لوگ روحانی طور پر بھی ترقی کرتے ہیں۔اور ایسے لوگ پھر ان لوگوں میں شامل ہو جاتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محسنین کی یہ بھی نشانی ہے کہ وہ اپنے جذبات پر بھی کنٹرول رکھنے والے ہیں، قابو رکھنے والے ہیں۔اور ایسا کنٹرول جو نہ صرف ایسی حالت میں جبکہ غصہ آنا قدرتی بات ہے غصہ کو دبانے والے ہیں بلکہ اس طرح جذبات میں قابو رکھتے ہیں اور اس کا امتحان اس وقت ہو گا جب غصہ دبانے کے بعد دوسروں کو معاف کرنے کی بھی حالت پیدا ہو۔یہ بات کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ ہر قسم کے غصہ اور بدلے کے جذبات کو دل سے نکال دیا جائے۔یہ بہت بڑی بات ہے۔جب غصہ بھی نہ آئے اور بدلہ لینے کے جذبات بھی دل سے نکل جائیں اور نہ صرف یہ کہ غصہ کے جذبات کو نکال دیا جائے بلکہ غلطی کرنے والے پر کچھ احسان بھی کر دیا جائے۔یہ بہت بڑی بات ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مومن میں یہ باتیں پیدا ہوں۔روایات میں حضرت حسن کا ایک واقعہ آتا ہے کہ آپ کے ایک غلام نے کوئی غلطی کی۔اس پر آپ کو اس پر بڑا غصہ آیا اور سزا دینا ہی چاہتے تھے کہ اس پر اس غلام نے آیت کا یہ حصہ پڑھا کہ وَالْحَاظِمِينَ الْغَيْظَ۔اور وہ جو غصہ دباتے ہیں۔اس پر حضرت حسنؓ نے سزا دینے کے لئے جو ہاتھ اٹھایا تھا اسے نیچے گر الیا یا ہاتھ ہی نہیں اٹھایا۔اس پر غلام کو اور جرآت پیدا ہوئی تو اس نے کہا۔وَالْعَافِین۔یعنی ایسے لوگ لوگوں کو معاف کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔اس پر حضرت حسنؓ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کہا کہ جاؤ میں نے تمہیں معاف کیا۔اس بات پر غلام کو مزید جرآت پیدا ہوئی تو اس نے کہا کہ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ۔کہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔اس پر انہوں نے اس غلام کو کہا کہ جاؤ میں نے تمہیں آزاد کیا۔جہاں جانا چاہتے ہو چلے جاؤ۔(ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 179-180) پس اللہ تعالیٰ کی محبت کی خواہش رکھنے والوں اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے والوں کے یہ رویے ہوتے ہیں کہ نہ صرف قصور وار کا قصور معاف کر دیں بلکہ اس پر احسان بھی کر دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کے حوالے سے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : یاد رکھو جو شخص سختی کرتا اور غضب میں آجاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہرگز