خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 500 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 500

خطبات مسرور جلد 14 500 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 ستمبر 2016 ملک کا یا عوام کا اس سے نقصان بھی نہ ہو رہا ہو۔کہنے لگا لیکن یہ بات تو تمہارے خلیفہ نے کہی ہے۔اس کی حقیقت تو تب پتا چلے گی جب ہم دیکھیں گے کہ احمدی نوجوان بھی اس پر عمل کرتے ہیں یا نہیں، یا ان کی اکثریت اس پر عمل کرتی ہے یا نہیں۔پس جب ہم مذہب کے حوالے سے کسی حکم کی اور اس حوالے سے اعلیٰ اخلاق کی بات کرتے ہیں تو غیر ہمیں دیکھتے بھی ہیں کہ ان کا اپنا عمل کیا ہے۔اس بات سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کے اعلیٰ اخلاق قائم کرنے کے لئے بتائی کہ تمہارے حقیقی مومن ہونے کا تب پتا چلے گا جب تمہارے اخلاق بھی اعلیٰ ہوں گے۔تمہارے ایک دوسرے کے لئے جذبات اور احساسات کے معیار بلند ہوں گے۔اور وہ معیار کیا ہیں ؟ یہ کہ جو چیز تم اپنے لئے پسند کرو وہ دوسرے کے لئے پسند کرو۔یہ نہیں کہ اپنے حقوق لینے کے لئے انصاف انصاف کی آوازیں بلند کرتے رہو اور دوسروں کے حقوق دیتے وقت منفی رویہ دکھاؤ۔پس ہم جس طرح اپنے حقوق لینے کے لئے بے چین ہوتے ہیں دوسرے کو حقوق دینے کے لئے بھی وہی معیار قائم کرنے چاہئیں۔ہم سے کوئی غلطی ہو جائے تو ہم جب اپنے لئے یہ چاہتے ہیں کہ ہماری غلطی معاف ہو اور ہم سے کوئی مواخذہ نہ ہو، ہمیں سزا نہ ملے تو پھر جب کوئی دوسرا کوئی غلطی کرتا ہے جس سے ہم متأثر ہورہے ہوں تو اس کے لئے پھر ہمیں بھی اگر وہ کوئی عادی مجرم نہیں ہے ، وہ بار بار غلطیاں نہیں دہرا رہا، یہی رویہ اپنانا چاہئے کہ معاف کر دیں۔ہاں اگر کسی غلطی سے جماعت یا قومی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہو تو پھر یہ فردی غلطی نہیں ہوتی اور اس کا جرم پھر قومی جرم بن جاتا ہے اور پھر ایسے لوگوں کا فیصلہ بھی ادارے کرتے ہیں، کوئی شخص نہیں کرتا۔بہر حال میں یہ بات کر رہا ہوں کہ معاشرے کے روز مرہ کے آپس کے معاملات میں جو حق ہم اپنے لئے سمجھتے ہیں وہ حق دوسرے کو بھی دیتے ہیں یا نہیں یا دینے کی ہماری سوچ ہے یا نہیں۔اور اس میں بنیادی اکائی گھر ہے، دوست احباب ہیں، بہن بھائی ہیں، دوسرے رشتہ دار ہیں۔جب چھوٹے پیمانے پر ، اپنے چھوٹے سے حلقے میں یہ سوچ ہو گی تو پھر معاشرے میں وسیع طور پر بھی یہی سوچ پھیلے گی۔خود غرضیاں ختم ہوں گی۔حق دینے کی باتیں زیادہ ہوں گی۔معاف کرنے کے رجحان بڑھیں گے۔سزا دینے یا دلوانے کے رجحان میں کمی ہو گی۔اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی ظاہری حقوق اور ضروریات کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ معاف کرنے کے رجحان کو بھی اختیار کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَاءِ وَالضَّرَّاء وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (آل عمران:135)۔یعنی وہ لوگ جو آسائش میں بھی خرچ کرتے ہیں اور تنگی میں بھی اور غصہ دیا جانے والے ہیں اور لوگوں سے در گزر کرنے والے ہیں۔اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔