خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 497
خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2016 خطبات مسرور جلد 14 497 تھا۔سوشل میڈیا پر غیر احمدیوں کو تبلیغ کرنا عزیزم کا معمول تھا اور اساتذہ کرام کی رہنمائی میں بڑی محنت کے ساتھ غیر احمدی احباب کے اعتراضات کے مدلل جو اب تیار کیا کرتا تھا۔پھر ان کے ایک ہم مکتب عزیزم سفیر احمد لکھتے ہیں کہ میرا تعلق بیلجیم سے ہے اور ان کو پتہ تھا کہ میں وہاں سے ہوں اور weekend پر گھر نہیں جاتا تو ہمیشہ weekend پر مجھے اپنے گھر کا پکا ہوا کھانا کھلانے کے لیے ضرور لے کر جاتا۔اسی طرح انگریزی ہماری کمزور ہے تو ہمیشہ انگریزی کو سمجھا کر پھر امتحان کی تیاری کرواتا۔اسی طرح شاہ زیب اطہر ہے وہ بھی کہتا ہے عزیز بڑا نرم مزاج اور خوشی سے دوسروں کو ملنے والا شخص تھا۔ہر وقت دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہنا۔کہتے ہیں جب ہمیں وقف عارضی کے لیے بھیجا گیا اور بازار میں ہم نے تبلیغی سٹال لگایا تو دو عیسائی لوگ آئے۔رضا نے بہت احسن رنگ میں جماعت کا پیغام پہنچایا۔مرحوم کا علم بہت وسیع تھا اور تبلیغ کرنے کا بہت جذبہ تھا۔کبھی غصہ سے بات نہیں کرتا تھا۔لڑکوں کو اکٹھا کر تا اور پھر دوسری تفریحات کا پروگرام بھی بناتا۔کہتے ہیں ایک واقعہ خاکسار کو یاد ہے۔2014ء کے اگست کی وقف عارضی کے دوران خاکسار اور نما سلیم مرحوم نے تبلیغی سٹال لگایا ہوا تھا۔جانے سے تھوڑی دیر پہلے بریٹن فرسٹ (Britain First) والے آگئے۔یہ لوگ اسلام کے خلاف ہیں ، لیف لیٹنگ کر رہے تھے۔جب وہ ہمارے پاس پہنچے تو رضا سلیم سے غصہ کے انداز میں سوالات پوچھتے رہے لیکن انہوں نے حلم اور نرمی سے تمام سوالات کے جواب دیئے تو آخر پر ان کو پتہ لگ گیا کہ یہ ان مسلمانوں میں سے نہیں ہیں جو شدت پسند ہیں۔اسی طرح جامعہ میں ان کے ایک پڑھنے والے ظافر کہتے ہیں کہ کلاس روم میں ان کے ساتھ بیٹھا تھا تو ایک دم بورڈ مار کر ہاتھ میں لیا اور کہا ظافر ہم جامعہ میں بہت وقت ضائع کر رہے ہیں اور ٹائم ٹیبل لکھنے لگا۔فارغ وقت کو ہائی لائٹ کر کے کہتا تھا کہ ہمیں اس وقت بھی کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے اور اس وقت کو بھی بجائے وقت ضائع کرنے کے پروڈکٹو (Productive) بنانا چاہیے۔اسی طرح انہوں نے فارغ وقت میں اساتذہ کے ساتھ بیٹھ کے مختلف subjects کے پڑھنے کا ارادہ کیا تھا۔پھر یہی لڑکا ہے جس کی آنکھ کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ملکی سی زخمی ہو گئی تھی۔کہتے ہیں مجھے چوٹ لگی تھی اور بار بار آخر وقت تک مجھے کہتا تھا کہ ظافر جیسے ہی ہم نیچے پہنچیں گے تو ہسپتال جائیں گے تا تمہارا صحیح علاج ہو سکے اور پھر یہ کہتے ہیں کہ حادثہ سے پہلے پہاڑ سے نیچے آتے ہوئے اگر کبھی میرا اپاؤں پھسلا۔( ظافر کا پاؤں پھسلا کر تا تھا) تو مر حوم کو بڑی فکر ہوتی تھی اور کہا کرتا تھا دھیان سے چلو۔اسی طرح کہتے ہیں گزشتہ سال ہائیکنگ کے دوران مجھے اونچائی کی وجہ سے تکلیف ہو گئی جسے altitude sickness کہتے ہیں تو بار بار مجھے تسلی دیا کرتا، حال پوچھا کرتا لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ تقدیر کو کچھ اور منظور ہے۔پھر weekend سے واپس آکر ہمیشہ جماعت پر ہونے والے اعتراضات یاد کر کے آتا اور اپنے اساتذہ سے ان کے جواب طلب کرتا۔