خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 496 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 496

خطبات مسرور جلد 14 496 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2016 والے اعتراضات کے جواب دینے کی ایک جوت جلا ر کھی تھی۔کہتے ہیں عزیزم رضا ایک دو مر تبہ میرے ساتھ گاڑی پر بیٹھا۔لفٹ لی اور دو مر تبہ اس کی یو ایس بھی سٹک (USB Stick) جیب سے گاڑی میں گر گئی اور وہ سٹک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آڈیو ریکارڈنگ پر مشتمل ہوتی تھی۔کوئی اوٹ پٹانگ چیز نہیں ہوتی تھی۔اسی طرح وہاں کے استاد سید مشہود احمد لکھتے ہیں کہ ٹیوٹوریل گروپ میں شامل تھا۔نصابی سرگرمیوں کے ساتھ علمی اور ورزشی مقابلہ جات میں بھی غیر معمولی دلچسپی لیا کرتا تھا۔عزیزم کا جنرل نالج دیگر طلباء کے مقابلہ پر بہت اچھا تھا۔اور اسی طرح کہتے ہیں گزشتہ سال مقابلہ بیت بازی میں حصہ لینے کے لیے عزیز نے تقریباً پانچ سو سے زائد اشعار یاد کیے تھے اور یہ خوبی بڑی نمایاں تھی کہ اشعار کو یاد کرنے سے پہلے یہ صرف رٹا نہیں مار لیتا تھا بلکہ ان کا مضمون سمجھا کر تا تھا اور جس کے لیے سینئر طلباء اور اساتذہ سے رہنمائی لیا کرتا تھا۔کہتے ہیں رضا سلیم کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔گزشتہ سال عزیزم کو وقف عارضی کے لیے وولور ہیمپٹن کی جماعت میں بھجوایا گیا جہاں عزیزم نے لیف لیٹس کی تقسیم کے علاوہ مقامی احباب جماعت کے ساتھ مل کر متعدد تبلیغی سٹال بھی لگائے اور اس دوران ان کی ملاقات ایک انگریز سے ہوئی جو مذ ہبا ایک فعال عیسائی تھا۔عزیزم نے جب انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تحقیق کی روشنی میں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے صلیب سے نجات پانے اور کشمیر کی طرف ہجرت کرنے کے بارے میں بتایا تو وہ بہت حیران ہوا۔بعد ازاں اس کے ساتھ اس کو مسجد کا وزٹ بھی کروایا۔اس کو دعوت دی اور اس کے بعد بھی اس سے مستقل تبلیغی رابطہ رکھا۔اسی طرح مقامی جماعت اسلام آباد اور جامعہ احمدیہ کے ساتھ لیف لیٹس کی تقسیم اور تبلیغی سٹال کے لیے ہمیشہ تیار رہتا۔گزشتہ سال یہاں سے ان کی کلاس کے کچھ طلباء یا جامعہ احمدیہ کے طلباء گرمیوں میں سپین گئے تھے اور وہاں انہیں میں نے کہا تھا کہ کم از کم پچاس ہزار لیف لیٹس، پمفلٹس تقسیم کر کے آنے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس گروپ نے وہاں پچاس ہزار پانچ سولیف لیٹ تقسیم کیے۔اسی طرح منصور ضیاء صاحب جامعہ کے استاد ہیں، لکھتے ہیں کہ بڑے ہی دھیمے مزاج کے طالبعلم تھے۔کبھی میں نے ان کے چہرے پر تیوری یا غصہ کے آثار نہیں دیکھے۔خلافت اور جماعتی عقائد پر ناحق اعتراض جب کسی نے کیے تو اس موقع پر کہتے ہیں کہ میں نے عزیز کے چہرے پر شدید غصہ دیکھا اور کہتے ہیں یہ باتیں یہ بین ثبوت تھیں کہ عزیزم کے رگ وریشہ میں خلافت سے محبت اور اس کے لیے غیرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔کہتے ہیں خلافت سے وابستگی کی ایک مثال یہ بھی ہے اور اسی طرح دینی علم سیکھنے کی بھی کہ جب بھی میں نے کلاس میں میرے خطبات کے بارے میں ذکر کیا اور خطبہ کے حوالہ سے کوئی جائزہ لیا تو عزیزم کو بہت سی باتیں یاد ہوتی تھیں۔بڑے غور سے سننے والا تھا۔پھر یہ بھی وہی کہتے ہیں جو سارے لکھ رہے ہیں کہ مشاہدہ کیا کہ عزیزم کو تبلیغ کا بہت شوق