خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 495
خطبات مسرور جلد 14 495 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2016 قدوس صاحب استاد جامعہ احمدیہ ہیں وہ بھی ساتھ تھے کہتے ہیں کہ میں بچپن سے رضا سلیم کو جانتا ہوں۔جامعہ میں داخلہ لیا تو اس وقت میں شاہد کلاس میں تھا اس لحاظ سے کہتے ہیں خاکسار نے جامعہ میں ایک ہی سال ان کے ساتھ گزارا ہے۔لیکن خدام الاحمدیہ کی تربیتی کلاسز ، اجتماعات اور جلسہ سالانہ کی ڈیوٹیاں اکٹھے دینے کا موقع ملتا رہا۔صدر خدام الاحمدیہ نے بھی مجھے بتایا کہ وہاں خدام الاحمدیہ کے اجتماعات پر لڑکوں کے ساتھ سوال جواب میں یہ بڑا اچھا کام کرتا رہا ہے۔قدوس صاحب لکھتے ہیں عزیزم رضا سلیم کی ڈیوٹی hygiene کے شعبہ میں لگتی تھی۔یہاں hygiene کہتے ہیں۔لفظ بڑا چنا ہوا ہے لیکن اصل چیز یہی ہے کہ صفائی وغیرہ کا خیال رکھنا تو کبھی بھی انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اس شعبہ میں ان کی ڈیوٹی کیوں لگائی گئی ہے بلکہ وہ یہ ڈیوٹی بہت محنت، لگن اور مستقل مزاجی سے سر انجام دیا کرتا تھا۔یہ کہتے ہیں کہ مجھے جامعہ میں پڑھانے کا بھی موقع ملا۔بہت لائق طالبعلم تھا۔کلاس میں سب سے آگے attentively بیٹھتا اور ہمیشہ مسکرا کر بات کرتا۔مجھے یاد نہیں ہے کبھی اس نے کسی قسم کے غصہ کا اظہار کیا ہو بلکہ دوسروں کی مدد کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتا۔کرکٹ کا بھی شوق تھا لیکن اگر سکور وغیرہ دیکھنا ہو تا تو ہمیشہ ٹیچر سے پوچھ کے جاتا۔کہتے ہیں کہ اس بائیک (Hike) کے دوران ہم نے ایک رات hut میں گزاری جس کے غسل خانے کے دروازے کا (lock) نہیں تھا۔سب نے اسے کہا کہ وہ دروازے پر کھڑا رہے تو بڑی خوشی سے اس نے یہ کام کیا اور یہ بھی کہا کہ اگر رات کو کسی کو جانا پڑے تو اس وقت مجھے بے شک اٹھا دینا۔اپنے ہائیک کے دوران اپنے کلاس میٹ عزیزم ظافر کے ساتھ ہائیکنگ کے بعد کروشیا جانا تھا۔وہاں ظافر کی آنکھ پہ چوٹ لگ گئی تو بار بار فکر کا اظہار کیا کہ فارغ ہو کر ہائیک سے نیچے جاکر انشاء اللہ تمہیں ہسپتال سے چیک اپ کروائیں گے۔یہ لکھتے ہیں کہ رضا سلیم بہت ہی مخلص واقف زندگی تھے۔محنت، مستقل مزاجی اور ہر ایک سے اخلاق سے پیش آنا اس کے نمایاں اوصاف تھے۔اسی طرح ظہیر خاں صاحب ایک ٹیچر ہیں۔جامعہ احمدیہ کے استاد ہیں۔وہ بھی لکھتے ہیں کہ گزشتہ دو سالوں سے عزیزم رضا کی کلاس کو پڑھانے کی توفیق پار ہا تھا۔خاکسار نے اس بچہ میں ایک منفر د خوبی یہ دیکھی تھی کہ جو کام اس کے سپر د کیا جاتا اسے وہ نہایت محنت، لگن اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ کرتا۔بعض اوقات میں نے دیکھا کہ اس کام پر مامور باقی بچے اگر ادھر ادھر چلے گئے ہیں تو یہ اکیلا اس کام کو سر انجام دے رہا ہو تا تھا اور جب تک کام مکمل نہ ہو جاتا اپنی بساط کے مطابق اس پر بختارہتا۔رضا سلیم کی ایک بہت پیاری عادت یہ تھی کہ کبھی غیر ضروری سوال نہیں پوچھتا تھا اور جب کبھی سوال پوچھتا تو وہ عموماً مغربی دنیا میں اسلام اور احمدیت کے بارے میں ہونے والے اعتراضات پر مبنی ہوتے اور بعض اوقات بتاتا کہ اس کی کسی غیر مسلم یا غیر احمدی دوست سے بات ہوئی اور اس نے یہ سوال پوچھا تھا۔گویا اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں اسلام اور احمدیت کے دفاع اور ان پر ہونے