خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 494
خطبات مسرور جلد 14 494 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2016 نہیں ہے تو صبح ہوتے ہی صدقہ دے دیں۔انہوں نے کہا کہ دفتر جاؤں گا تو صدقہ دے دوں گا۔لیکن اس سے پہلے ہی یہ افسوسناک اطلاع آگئی۔والدہ کہتی ہیں کہ جب بھی کوئی کپڑا لا کر میں دیتی تو آرام سے پہن لیتا اور بڑی تعریف کرتا۔مهمان نوازی میں تو بہت ہی بڑھا ہوا تھا۔اگر کوئی ایک دفعہ اس کی دعوت کر لیتا تو پھر بھولتا نہیں تھا۔اور جب کبھی وہ کہیں ملتے یا اسلام آباد آتے تو فوراگھر آکر کہتا کہ فلاں فلاں لوگ آئے ہوئے ہیں کھانا بنائیں۔ان کو کھانے پہ بلائیں۔پھر یہ کہتی ہیں کہ اپنے ٹرپ پر جانے سے پہلے مجھے فون پر اردو میں لکھنا سکھاتا رہا کہ آپ کو دوسرے بہن بھائیوں سے حال پوچھنا پڑتا ہے تو آپ مجھے اردو میں لکھیں اور خود میں آپ کو جواب دیا کروں گا۔کہتی ہیں جو بھی میں نے نصیحت کی اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرتا اور یہی اس نے دوستوں کو بھی بتایا۔خلافت کے ساتھ تعلق قائم رکھا۔نظام جماعت کے ہر چھوٹے سے چھوٹے حکم پر عمل کرنے کی کوشش کرتا۔اس کی والدہ کہتی ہیں کہ ایک دفعہ مجھے کہا کہ امی میر ادل کرتا ہے کہ میں اتنا اچھا مربی بنوں کہ جماعت کی بہت تبلیغ کروں اور اتنے احمدی بناؤں کہ آپ کو مجھ پر فخر ہو۔ان کی بہن رفیعہ صاحبہ کہتی ہیں بڑا ہی پیارا بھائی تھا۔چھوٹا تھا مگر اس کی سوچ بڑی گہری تھی۔چھوٹا ہو کر سب کا خیال رکھنے والا اور ہر عمر کے لوگوں کے ساتھ ان کی عمر کے مطابق ہو کر بات کرتا اور آج تک کبھی اس نے کسی کا دل نہیں دکھایا۔ہر بات کو بڑے آرام سے سنتا اور بڑی عزت کے ساتھ جواب دیتا۔اسلام آباد میں کام کرنے کے لیے جو ور کر لوگ جاتے تھے ، پہلے بعض مرمتیں وغیرہ ہوتی تھیں یا لجنہ ہال بن رہا تھا تو وہاں بھی ان کا خیال رکھنا۔چائے پہنچانا یا دوسری کھانے پینے کی چیزیں دینا، ہر وقت ان کی خدمت کر تا تھا اور لوگ کہتے تھے کہ صرف یہ لڑکا ہی ہے جو ہمیں پوچھتا ہے۔اس کے بھائی اسد سلیم کہتے ہیں کہ بہت سادہ مزاج کا حامل تھا۔صاف اور سیدھی بات کرتا۔ہم نے حال ہی میں عزیزم کے لیے ایک نئی گاڑی خرید کر دی اور اسے سرپرائز دیا۔دونوں بھائی اچھے کام کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو گاڑی خرید کر دی۔کہتے ہیں سب سے پہلی بات جو عزیزم نے اس گاڑی کے متعلق پوچھی وہ اس کی قیمت تھی اور کہا کہ بطور مربی مجھے سادہ زندگی گزارنی چاہیے اور بیش قیمت چیزیں نہیں لینی چاہئیں۔ان کی ہمشیرہ امتہ الحفیظ صاحبہ لکھتی ہیں۔ایک خوبی اس میں یہ تھی کہ کسی شخص کی برائی سنا پسند نہیں کر تا تھا۔اور اس میں یہ صلاحیت تھی کہ لوگوں کے منفی خیالات کو اچھے رنگ میں بدل دیتا تھا۔اس کا کہنا یہی ہو تا تھا کہ ہمیں لوگوں کی اچھائیوں پر نظر رکھنی چاہیے اور ان کی برائیوں کے متعلق باتیں کرنے کی بجائے ان کے متعلق دعا کرنی چاہیے۔طبیعت میں سادگی کی ایک مثال یہ ہے کہ والدہ صاحب اس کو عید پر نئے کپڑے خرید کر دیتیں تو وہ کپڑے پہن کر بہت فکر مند رہتا، کہیں ان کپڑوں میں ضرورت سے زیادہ تکلف اور دکھاوا نہ ہو جائے۔اس لیے اپنی کوئی پرانی چیز ، کوئی جیکٹ وغیرہ اوپر پہن لیتا۔