خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 493
خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2016 خطبات مسرور جلد 14 493 ہنستے مسکراتے دیکھا اور یہ ہر ایک نے یہی لکھا ہے۔پاکیزہ مذاق خود بھی کر تا تھا اور اس سے لطف اندوز ہو تا تھا۔نماز کا انتہائی پابند۔وقف نو میں تو تھا ہی۔والد کہتے ہیں اس کے واقف زندگی ہونے کا اعزاز بھی اللہ تعالیٰ نے دیا۔ہمیشہ سچ بول کر صفت صدیقی کو اپنایا اور اپنی توفیق کے مطابق اس میں حصہ پایا۔کہتے ہیں میری دیرینہ خواہش تھی کہ یہ مربی بن کر سلسلہ کی خدمت کی توفیق پائے۔انہوں نے مجھے بھی کہا تو میں نے ان کو یہی کہا تھا کہ یہ بچہ تو جامعہ کی مکمل کرنے سے پہلے ہی مربی بن چکا تھا۔اور بعض واقعات بتاؤں گا کس طرح اس کو تربیت کا بھی، تبلیغ کا بھی شوق تھا۔اور یہ جو سفر تھا یہ بھی جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ اس نے صحت مند جسم کے لیے یقینا یہ سفر کیا اس نے اور اس لحاظ سے اس کو بھی ایک دینی سفر ہی کہنا چاہیے۔تعلیم " اللہ تعالیٰ اس کے درجات بھی بلند فرماتا رہے اور قریبیوں میں جگہ بھی دے۔ان کے والد صاحب لکھتے ہیں مانچسٹر وقف عارضی پر گیا ہوا تھا جس دن واپس آنا تھا وہاں سے کسی نے ایک لفافہ اس کی جیب میں ڈال دیا۔اس نے کھول کر دیکھا تو اس میں کچھ رقم تھی۔رضانے شکریہ کے ساتھ واپس کی اور کہا کہ انکل ہمیں لینا منع ہے۔اسی نص نے چند دن بعد مجھے بھی خط لکھا کہ ایک چھوٹا سا بچہ جو مربی بن رہا ہے وہ یہاں آیا تھا اور ہمیں حیران کر گیا۔اگر ایسے بچے مربی بنیں گے تو یقیناً جماعت میں روحانی تبدیلی آئے گی۔کیونکہ مجھے لکھا کہ اس طرح اسے دیا گیا اور اس نے لینے سے انکار کر دیا اور انتہائی محنت سے اپنے کام کو سر انجام دیا۔ان کی والدہ لکھتی ہیں کہ میرا بیٹا اپنے والدین اور جماعت کی اطاعت کرنے والا تھا۔میرے ساتھ اس کا محبت کا تعلق تھا۔ویسے تو ہر بچے کا والدین سے محبت کا تعلق ہوتا ہے لیکن اس کا پیار کا انداز بہت نرالا تھا۔خیال رکھنے والا، بات ماننے والا، ہر چھوٹے سے چھوٹے معاملہ میں بڑے ہی اچھے انداز سے بات کرتا۔چھوٹوں اور بڑوں سے بڑے پیار سے پیش آتا۔جب بھی گھر میں ہوتا میرے گھر کے کاموں میں مدد کرتا۔تھوڑی تھوڑی دیر بعد پوچھتا کہ آپ تھک گئی ہیں، کوئی مدد کر دوں۔کبھی مجھے پریشان نہیں دیکھ سکتا تھا اور یہی کہتا تھا کہ آپ کی آنکھوں میں آنسو نظر نہ آئیں۔جامعہ سے واپس آتے ہی گھر میں سب لوگوں کا پوچھتا کہ پورے ہفتہ سب کیسے رہے ؟ بڑی فکر سے سب کا پوچھتا۔چھوٹا تھا تو اس وقت جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع اسلام آباد جایا کرتے تھے تو سکول سے آتے ہی بھاگ جاتا کہ میں حضور کو ملنے جارہا ہوں اور ساتھ سیر بھی کرنی ہے۔ڈاکٹر نصرت جہاں صاحبہ جو ربوہ کی ہیں اور آج کل یہاں کافی بیمار ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی صحت دے، ان کا ان کے گھر سے کافی تعلق تھا، کہا کرتا تھا کہ میں ان کے لیے بڑی دعا کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ ان کو صحت دے۔اللہ تعالیٰ اس کی دعائیں بھی ان کے لیے قبول کرے۔یہ لکھتی ہیں کہ میں نے جمعہ کی رات خواب میں دیکھا کہ میرے گھر بڑے لوگ آرہے ہیں اور بڑی تصویریں بن رہی ہیں۔میں ڈر کر اٹھی اور اپنے شوہر کو کہا کہ مجھے خواب آئی ہے جس سے میں ڈر گئی ہوں۔اس خواب کا مجھے اچھا تاثر