خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 492
خطبات مسرور جلد 14 492 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2016 سلیم ظفر صاحب لکھتے ہیں کہ میرا بہت ہی پیارا بیٹا تھا۔بہت سی خوبیوں کا مالک تھا۔کہتے ہیں چند ایک کا ذکر کر تا ہوں۔ہمیشہ سچ بولتا تھا۔اگر کوئی غلطی ہو گئی ہے تو چھپاتا نہیں تھا۔اگر ڈانٹ بھی پڑے تو اس کی پر واہ نہیں کر تا تھا۔اپنی غلطی کو تسلیم کرنا اور سچ پر قائم رہنا اس کی عادت میں شامل تھا۔بچوں سے بڑا پیار کرنے والا تھا۔اپنی بہن کے بچوں سے بہت پیار کرتا۔اگر وہ بہن اپنے بچوں کو ڈانٹتی تو یہ اتنا حساس تھا کہ خود رو پڑتا اور یہ کہا کرتا تھا کہ بچوں کی اصلاح مارنے سے نہیں ہو جاتی۔میرے سے ملاقات کا پہلے ذکر کیا ہے۔انہوں نے بھی لکھا ہے کہ جب بھی ملاقات ہوتی بڑا خوش ہو کے فون پر بتایا کرتا تھا کہ آج میری ملاقات ہوئی ہے اور کہتے ہیں ہمیں بھی ان خوشیوں میں شامل کرتا۔اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ملاقات سے پہلے دفتر میں نیل کٹر (Nail Cutter) ضرور مانگتا تھا کہ میں اندر جارہا ہوں، مصافحہ کرتے ہوئے کہیں میرا ناخن نہ لگ جائے۔کتنے ہیں جو اس باریکی سے احساس کرنے والے ہیں۔دوسروں کو چیزیں دے کر خوشی محسوس کرتا تھا۔کہتے ہیں بچپن سے ہی ہم اس کے لیے چاکلیٹ یا دوسری چیزیں وغیرہ لے کر آتے تھے تو ہفتہ کا سامان لاتے تھے اور وہ اگر پہلے دن ہی اس کے ہاتھ لگ گئیں ہیں تو لے جاکے اپنے سٹوڈنٹ میں بانٹ دیا کرتا تھا۔جامعہ میں تعلیم کے دوران بھی جو لڑ کے لندن سے باہر سے آئے ہوتے تھے، weekend پر اپنے گھروں کو نہیں جاسکتے تھے تو اپنی امی کو یا بہن کو بتادیا کرتا تھا کہ میرے ساتھ اتنے دوست آرہے ہیں اس لیے وہ ہمارے ساتھ کھانا کھائیں گے کھانا تیار رکھیں۔اگر کوئی چیز کھانے کے لیے اس کو دیتے کہ ہوسٹل میں جار ہے ہو یہ رکھ لو تو اگر تو وہ وافر ہو تو لے کر جاتا کہ میرے روم میٹ (Room mate) جو ہیں ان کو پوری آجائے ورنہ چھوڑ جاتا کہ میں چھپ چھپ کے کھانے نہیں کھا سکتا۔کہتے ہیں اپنے دوستوں کے کپڑے بھی بعض دفعہ گھر لے آتا تھا کہ میرے دوست کے کپڑے ہیں ان کو دھو کر استری کر دیں۔بہن بھائیوں سے بھی بہت پیار کا تعلق تھا۔پوری ذمہ داری سے ہر ایک کے کام کرنا، خدمت کرنا۔اپنی ذات کے لیے تو بے شک ہاتھ روکتا تھا، اسے کنجوسی تو نہیں کہنی چاہیے ، لیکن اسراف نہیں تھا۔دوسروں کے لیے بہت کھلا ہاتھ تھا اور وصیت بھی جیسا کہ میں نے کہا اس کی اللہ کے فضل سے منظور ہو گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلافت سے بے پناہ محبت تھی اور اس کے خلاف کبھی کوئی بات نہیں سنتا تھا اور بات سن کے کبھی خاموش نہیں رہتا تھا۔اگر کوئی ایسی بات سنے چاہے کوئی بھی ہو ، کہتے ہیں ہمیشہ چہرہ سرخ ہو جایا کرتا تھا۔کہتے ہیں کہ کیونکہ بہت صابر تھا، کبھی مانگتا نہیں تھا اس لیے ہمیں اس کی ضروریات کا خود ہی خیال رکھنا پڑتا تھا۔پڑھائی کے دوران ہمیشہ ان لڑکوں کی انگلش میں بڑی مدد کیا کرتا تھا جو یو کے (UK) سے باہر کے، خاص طور پر یورپ سے آنے والے تھے۔بعض لڑکوں نے مجھے بھی لکھا، بڑے سینئر لڑکوں نے بھی لکھا کہ انگلش کے پرچے کے دوران پڑھانے کی ہماری بڑی مدد کیا کرتا تھا۔غصہ نام کی تو کوئی چیز اس میں نہیں تھی۔ہمیشہ اس کو