خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 491 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 491

خطبات مسرور جلد 14 491 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2016 جانے کی کوشش کی مگر کہتے ہیں میں نے ان کو منع کر دیا کیونکہ اس وقت شاک (shock) کی وجہ سے کسی میں بھی چلنے کی ہمت نہیں تھی۔دوسرے اس سے بڑے نقصان کا خطرہ تھا۔بعد ازاں اس وقت راستہ پر چلنے والے دوسرے افراد کی مدد سے باقی تمام طلباء کو اوپر لے کے آیا۔جو باقی طلباء ساتھ تھے یہ لوگ بھی کافی نیچے اتر گئے تھے۔حادثہ کے فوراً بعد ایمر جنسی سروس کو فون پر اطلاع دی گئی اور بیس منٹ کے اندر ہیلی کاپٹر آگیا۔عزیزم رضا سلیم ہماری نظر کے سامنے تھا۔ہم نے ہیلی کاپٹر کو جگہ کا بتایا جہاں انہوں نے ہیلی کاپٹر کی مدد سے اپنا آدمی اتار دیا۔جب تک سارا گروپ ہیلی پیڈ تک نہیں پہنچ گیا اس وقت تک انہوں نے عزیزم رضا سلیم کی وفات کے متعلق کوئی اطلاع نہ دی۔جب تمام طلباء ہیلی پیڈ کے پاس بخیریت پہنچ گئے تو ایمر جنسی سروس والوں نے عزیزم رضا سلیم کی وفات کنفرم کی۔اس کے بعد ایک گھنٹے کے اندر اندر قریبی شہر میں تمام طلباء کو ہیلی کاپٹر کے ذریعہ پہنچا دیا گیا۔اس حادثے کے وقت موسم بالکل صاف تھا اور جس ٹریک پر ہم چل رہے تھے اس کا نام ہی نارمل ٹریک ٹو پیک ہے۔رضا سلیم کے والد سلیم صاحب بھی وہاں گئے تھے۔انہوں نے بھی مجھے بتایا کہ وہاں کے لوگ ملے اور لوگ تو کہتے تھے کہ بالکل نارمل ٹریک تھا کوئی مشکل نہیں تھا ہمارے بچے بھی یہاں سے گزرتے تھے اور ایک بوڑھا آیا اس نے بھی بتایا کہ میں روزانہ یہاں سیر کرتا تھا۔کہتے ہیں عمومی طور پر بچے بڑے سب اس ٹریک پر چلتے ہیں۔وہاں پر موجود لوکل لوگوں میں سے جس کو بھی اس حادثے کی خبر ملی انہوں نے کہا بظاہر اس ٹریک میں کوئی خطرہ نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہی معلوم ہوتی ہے۔بہر حال یہ ساری تفصیل تو اس لیے بھی میں نے بتائی ہے کہ بعض لوگ فونوں پر، پیغامات اور واٹس ایپ یا دوسرے ذریعوں سے بعض غلط قسم کے تبصرے بھی کر رہے ہیں کہ شاید اکیلا باہر چلا گیا تھا۔موسم خراب تھا۔پورے انتظامات نہیں تھے۔لباس نہیں پہنا ہوا تھا۔حالانکہ وہاں کے لوکل اخبار نے جو خبر لکھی ہے اس نے بھی بتایا کہ پورے طور پر جو ضروری سامان ہوتا ہے ، لباس ہوتا ہے وہ ان لوگوں نے پہنا ہوا تھا۔ایسے تبصرے کرنے والے لوگوں کو بھی عقل سے کام لینا چاہیے۔ایسے موقعوں پر فضول تبصروں کی بجائے ہمدردی کے جذبات کا اظہار ہونا چاہیے۔اس میں نہ انتظامیہ کا قصور ہے اور نہ ہی کسی کا قصور ہے۔بس اللہ تعالیٰ نے وقت رکھا ہوتا ہے۔آئی تھی، پتھر پھیلا ہے یا کیا ہوا، کس طرح گرا، چکر آیا یا جو بھی وجہ ہوئی لیکن بہر حال ایک تقدیر تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس کی زندگی اتنی ہی رکھی تھی۔جو باقی بچے ساتھ تھے وہ بھی صدمہ میں ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی ہمت اور حوصلہ دے اور اپنی عام زندگی میں وہ جلد واپس آجائیں۔یادیں تو بھلائی نہیں جاسکتیں جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا۔دوستوں میں ذکر چلتے بھی رہیں گے لیکن جامعہ کے طلباء کو بھی اس سے کسی بھی قسم کی مایوسی پیدا نہیں ہونی چاہیے ، خوف پیدا نہیں ہونا چاہیے۔