خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 490
خطبات مسرور جلد 14 490 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2016 وصف تھے۔ایسے لوگ جن کی ہر ایک تعریف کرتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ان لوگوں میں شامل ہوتے ہیں جن پر جنت واجب ہو جاتی ہے۔اور یہ بچہ تو دین کی خدمت کا ایک خاص جذبہ رکھتا تھا اور شاید کھیلوں اور ہائیکنگ وغیرہ میں بھی اس لیے حصہ لیتا تھا کہ صحت مند جسم دین کی خدمت کے لیے ضروری ہے۔اس کے کوائف لکھنے والوں نے اس پیارے بچے کے بارے میں جو اظہار کیے ہیں وہ ہر ایک اظہار ایسا ہے جو اس کی خوبیوں کو ظاہر کرتا ہے۔عزیم رضا سلیم جو ہمارے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے کارکن سلیم ظفر صاحب کے بیٹے تھے 27 ستمبر 2016ء کو اٹلی میں ہائیکنگ کے دوران ایک حادثہ میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یہ 10/ ستمبر 1993ء کو کلفورڈ، یو کے (UK) میں پیدا ہوئے تھے۔وقف کو کی تحریک میں شامل تھے۔ان کے خاندان میں احمدیت ان کے پڑدادا محترم الہ دین صاحب کے ذریعہ آئی جن کا تعلق قادیان کے قریب ایک گاؤں سے تھا۔انہوں نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔عزیز نے 2012ء میں جامعہ احمدیہ یو کے میں داخلہ لیا۔وہ اپنے خاندان میں پہلے مربی بن رہے تھے اور درجہ ثالثہ پاس کر چکے تھے اور رابعہ میں جانے والے تھے۔مرحوم موصی تھے۔وصیت کا فارم انہوں نے فل کر دیا ہوا تھا اور کارروائی ہورہی تھی جس پر میں نے کار پر داز کو لکھا کہ وصیت منظور ہے۔والدین کے علاوہ ان کے دو بہنیں اور دو بھائی بھی ہیں۔حافظ اعجاز احمد صاحب جو جامعہ یو کے (UK) کے استاد ہیں اور ہائیکنگ کے انچارج بھی ہیں وہ ساتھ گئے ہوئے تھے۔وہ اس واقعہ کی کچھ تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہم نے ایک روز قبل پہاڑ کی چوٹی مکمل کی اور رات تقریباً پانچ سو میٹر نیچے ایک hut میں گزاری۔اوپر سے نیچے آگئے تھے۔جو مشکل راستہ تھا وہ طے کر چکے تھے۔جہاں ہمارے ساتھ تقریباً دس کے قریب دیگر ہائیکر ز بھی تھے۔صبح تقریباً 8 بجے ہم hut سے واپسی کے لیے روانہ ہوئے۔اس وقت موسم بھی بالکل صاف تھا۔ہم سب قطار میں اکٹھے جارہے تھے کہ یکدم عزیزم رضا سلیم کا پاؤں پھسلایا کسی پتھر سے ٹکرایا جس کی وجہ سے وہ سنبھل نہ سکے اور تیز رفتاری سے ڈھلوان ہونے کی وجہ سے آگے کی طرف بھاگے مگر قابو نہ رکھ سکے اور سر کے بل نیچے گرے۔انہوں نے سر پر ہیلمٹ پہن رکھا تھا مگر اس کے باوجود نیچے گرنے کی وجہ سے سر پہ چوٹ آئی۔ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ گرنے کے دوران میں یا پہلے ہی بیہوشی کی کیفیت تھی یا چوٹ لگنے سے پہلے ہی سانس رک گیا تھا کیونکہ سیدھے گرے تھے۔بہر حال کہتے ہیں کہ اتنے میں خاکسار نے ان کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہ ہوئی۔پھر ایک اور طالبعلم عزیزم ہمایوں جو آگے جارہے تھے ان کو آواز دی انہوں نے بھی پکڑنے کی کوشش کی۔عزیزم ہمایوں کا ہاتھ ان کو لگا بھی مگر وہ پکڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔عزیزم رضا سلیم گہرائی کی طرف گر گئے۔حادثہ دیکھ کر بعض دوسرے طالبعلموں نے بھی ان کو بچانے کے لیے نیچے