خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 489
خطبات مسرور جلد 14 489 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2016 کہتے ہیں کہ میری بیوی کی حیرت کی انتہانہ رہی جب عزیز مرحوم کی والدہ نے کہا کہ وہ میرا بہت ہی پیارا بیٹا تھا لیکن اس کو بلانے والا اس سے بھی پیارا ہے۔یہ مومنانہ شان کا وہ جواب ہے جو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے والوں میں نظر آتا ہے۔کوئی چیخنا چلانا نہیں، ہاں افسوس ہوتا ہے۔اس میں انسان رو تا بھی ہے۔صدمہ کی انتہائی حالت بھی ہوتی ہے۔اور ماں سے زیادہ کس کو جو ان بچے کی وفات کا احساس ہو سکتا ہے۔اس سے زیادہ کس کو تکلیف ہو سکتی ہے۔یا باپ سے زیادہ کس کو اپنے جوان بچے کے رخصت ہونے کا احساس ہو سکتا ہے۔باپ کے متعلق مجھے یہی بتایا گیا کہ حادثہ کی اطلاع ملتے ہی انتہائی صدمہ کی حالت میں تھے۔روئے بھی اور دعا بھی کر رہے ہوں گے لیکن جب صور تحال واضح ہو گئی، اور تھوڑی دیر بعد ہی جب یہ اطلاع ملی کہ وفات ہو گئی ہے تو انا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھ کر پر سکون ہو گئے۔پس یہی حقیقی مومنانہ شان ہے۔جو ان بچے کی اچانک موت کو اتنی جلدی بھلایا تو نہیں جاسکتا لیکن ایک مومن اپنے درد اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر بیان کرتا ہے۔روتا بھی ہے اور تسکین قلب اور مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کرتا ہے۔میں جرمنی کے سفر پر تھا۔واپسی کا سفر اس دن شروع ہو ا تھا۔سفر شروع کرنے سے پہلے ہی مجھے اطلاع ملی کہ حادثہ ہو گیا ہے اور پھر راستے میں وفات کی اطلاع بھی ملی۔عزیز بچے کا چہرہ بار بار میرے سامنے آتا رہا۔دعا کی توفیق بھی ملتی رہی۔بڑا ہی پیارا بچہ تھا۔جامعہ یو کے (UK) کے بچے با قاعدگی سے کیونکہ مجھے ملتے رہتے ہیں اس لیے ہر ایک سے ایک ذاتی تعلق بھی ہے اور ان سے واقفیت بھی ہے۔ملاقات کے دوران اگر میرے پاس کچھ وقت ہو تو سوال و جواب بھی کر لیتے ہیں۔اس بچے کی آخری ملاقات جب میرے ساتھ ہوئی تو کچھ سوال اس کے ذہن میں تھے۔اس کے جواب میں کچھ وقت لگا۔کافی تفصیل سے میں نے اس کو بتایا۔مجھے تو یہ اس کے والد کے کہنے پر یاد آیا کہ اس ملاقات کے بعد عزیزم رضا بڑا خوش تھا کہ آج کم و بیش پندہ سولہ منٹ کی ملاقات میں میرے سوال کا تفصیلی جو اب مجھے ملا۔ہمیشہ اس کی آنکھوں میں خلافت کے لیے ایک خاص پیار اور چمک ہوتی تھی۔جب عزیز جامعہ میں داخل ہوا ہے تو میر اخیال تھا کہ شاید اس کو کھیل کود میں زیادہ دلچسپی ہو اور اخلاص و وفا بھی جیسا ہر احمدی کا ہو تا ہے ویسا ہی ہو گا اور اتنی بچپن کی عمر میں تو جو بچوں کا ہوتا ہے وہی ہو گا۔لیکن اس بچے نے میرے اندازے کو بالکل غلط ثابت کر دیا۔پڑھائی میں بھی ہوشیار نکلا۔بیشک کھیلوں میں دلچسپی تھی۔اور اخلاص و وفا میں بھی بہت بڑھا ہو ا تھا۔ایک جذبہ تھا کہ خلافت اور دین کی حفاظت کے لیے میں ننگی تلوار بن جاؤں اور جیسا کہ بعض حالات اس کے دوستوں نے لکھے ہیں اس نے یہ کر کے بھی دکھایا۔بیشمار لکھنے والے اس کے دوستوں نے، اس کے کلاس فیلوز نے، جامعہ کے طلباء نے ، بہن بھائی اور والدین نے مجھ سے اس کی خوبیوں کا ذکر کیا۔ایک بات تو تقریباً ہر ایک نے لکھی کہ عاجزی، خوش خلقی، دین کی غیرت، خلافت سے تعلق اور محبت، مہمان نوازی، جذبات کا احترام یہ اس کے خاص