خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 488
خطبات مسرور جلد 14 488 38 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 16 ستمبر 2016ء بمطابق 16 تبوک 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہر انسان جو دنیا میں آتا ہے ایک دن اس نے اس دنیا سے رخصت ہونا ہے بلکہ کسی چیز کو بھی ہمیشگی نہیں ہے۔بعض انتہائی بچپن میں اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس بلا لیتا ہے۔بعض جوانی میں، بعض بڑی عمر میں ہو کر اور بعض لوگ اپنی عمر کے انتہائی حصہ کو پہنچتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارذَلِ العُمر کہا ہے، جس عمر میں پہنچ کر پھر دوبارہ ان کے بچنے کی، محتاجی کی اور بے علمی کی حالت ہو جاتی ہے۔آخر وہ بھی اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ہر ایک کے قریبی رشتہ دار کو اپنے قریبیوں کے دنیا سے رخصت ہونے کا صدمہ ہوتا ہے چاہے وہ کسی بھی عمر میں رخصت ہوا ہو۔لیکن بعض وجود ایسے ہوتے ہیں جن کے اس دنیا سے رخصت ہونے پر ، وفات پانے پر ، افسوس کرنے والوں کا دائرہ بڑا وسیع ہوتا ہے۔اور اگر کوئی ایسی پسندیدہ شخصیت نوجوانی میں اور اچانک اس دنیا سے رخصت ہو جائے تو دکھ اور افسوس بہت بڑھ جاتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر تکلیف اور مشکل اور افسوس اور صدمہ کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کی دعا سکھائی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ہی ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔اور جب اس دنیا سے رخصت ہونے والے قریبی کے انتہائی صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں، یہ دعا پڑھتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ جہاں مرحوم کے درجات بلند کرتا ہے وہاں پیچھے رہنے والوں کے تسکین کے سامان بھی پید افرماتا ہے۔پچھلے دنوں ہمارے ایک بہت ہی پیارے عزیز، جامعہ احمدیہ کے طالبعلم رضا سلیم کی ایک حادثے کے نتیجہ میں تئیس (23) سال کی عمر میں وفات ہوئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ایک عزیز نے مجھے بتایا کہ ان کے دوست اپنی اہلیہ کے ساتھ اطلاع ملنے کے دو گھنٹے کے اندر ہی مرحوم کے والدین کے پاس افسوس کے لیے گئے تو