خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 485
خطبات مسرور جلد 14 485 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2016 بات میں نے آج آپ کے خلیفہ سے سیکھی ہے کہ integration کے لئے دونوں طرف سے مفاہمت کا ہونا ضروری امر ہے۔مجھے پتا ہے کہ مسلمان سور کا گوشت نہیں کھاتے اس لئے اگر میں مسلمانوں کو اپنے گھر مدعو کروں گی تو ان کے لئے کوئی اور گوشت بناؤں گی۔یہ تو بنیادی سی بات ہے۔اسی طرح اگر مسلمان مرد میرے ساتھ ہاتھ ملانا نہیں چاہتے تو میں کیوں زبر دستی انہیں ہاتھ ملانے پر مجبور کروں۔پھر ایک جرمن مرد نے کہا کہ مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی کہ آپ کے خلیفہ نے عورت اور مرد کے ہاتھ ملانے والے معاملے کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ان کا خطاب سننا میرے لئے باعث عزت تھا۔ان کے دلائل کو رڈ نہیں کیا جاسکتا جو انہوں نے دیئے۔پھر یہ کہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے کے لئے کوئی عام بات نہیں کہ مسلمان مرد عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتے لیکن خلیفہ نے بالکل درست کہا ہے کہ ایک امن پسند اور tolerant معاشرے میں ہمیں ایک دوسرے کے عقائد کا خیال رکھنا چاہئے۔پھر وہ خاتون جو ڈسٹرکٹ ہیڈ کے ساتھ آئی تھیں اور اس وجہ سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کو کہنا پڑا کہ عورتوں کے ساتھ ہاتھ ملانا چاہئے۔یہ خاتون ایک سال پہلے مسجد کی بنیاد پر بھی اور پھر افتتاح پر بھی آئی ہوئی تھیں۔یہ کہتی ہیں ان کو پہلے بڑا غصہ تھا کہ مرد عورت کا کیوں ہاتھ نہیں ملایا جاتا۔کیونکہ ان کو پہلے بتا دیا گیا تھا کہ میں ہاتھ نہیں ملاؤں گا۔بہر حال یہ کہتی ہیں کہ مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ خلیفہ نے مسٹر گھیکے (Mr۔Gemke) جو ڈسٹرکٹ ہیڈ تھے ان کی طرف سے اٹھائے گئے تمام سوالات کا جواب دیا۔گزشتہ سال مجھے جب دعوت نامہ دیا گیا تو اس پر لکھا ہوا تھا کہ احمدی مرد عورتوں کے ساتھ ہاتھ نہیں ملائیں گے۔یہ پڑھ کر مجھے شدید دکھ ہوا تھا لیکن آج جس طرح خلیفہ نے ہاتھ ملانے کے حوالے سے وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے یہ مجھے خط بھجوانے سے پہلے بتا دیتے تو مجھے اسی وقت سمجھ آجاتی۔گو کہ میر اماننا ہے کہ عورت مرد ہاتھ ملا سکتے ہیں لیکن آپ کے خلیفہ کے خطاب نے میر انظریہ تبدیل کر دیا ہے کہ ہمیں اپنے رسوم و رواج دوسروں پر زبر دستی نہیں ٹھونسنے چاہئیں اور دوسروں کے عقائد اور نظریات کا خیال رکھنا چاہئے۔پس ایک بات تو ہمیں یادر کھنی چاہئے کہ دوسروں کے ساتھ بات چیت میں جب اپنے دین اور مذہب اور روایات کی بات کر رہے ہوں تو حکمت سے بات کرنی چاہئے تا کہ آپ کی بات ان کو پہنچ بھی جائے اور دوسروں کے جذبات کو تکلیف بھی نہ ہو۔اب اس عورت نے جو چرچ کی نمائندہ تھی جس کا میں نے ذکر کیا ہے یہ بالکل ٹھیک کہا ہے کہ مجھے خط میں لکھ کر دینے کی کیا ضرورت تھی کہ ہم مصافحہ نہیں کرتے۔تم آؤ گی تو مصافحہ کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ہم تمہیں سنگ بنیاد پر بلا تو رہے ہیں لیکن یاد رکھنا مصافحہ کرنے کے لئے ہاتھ نہ بڑھانا۔اس کی جرأت نہ کرنا۔یہ کوئی لکھنے والی بات ہے ہی نہیں۔اگر ایسا ہی شک ہے کہ وہ اس طرح کرے گی تو پھر نہ بلائیں۔اور پھر مسجد کے افتتاح پر بھی اس کو بلالیا۔لیکن اس لحاظ سے یہ اچھا ہوا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ نے اس معاملے کو دوبارہ اٹھایا اور مجھے کچھ حد