خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 486 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 486

خطبات مسرور جلد 14 486 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2016 تک ان کو تفصیلی جواب دینے کا موقع مل گیا۔میں نے بھی کوئی ڈر کے بات نہیں کی تھی۔ان کے سامنے دوٹوک بات کی تھی۔لیکن حکمت سے بات کی تھی۔اور ضلعی ہیڈ کو بھی شاید اس طرح واضح جواب کی امید نہیں تھی کیونکہ اس کا بھی انہوں نے اظہار کیا لیکن ساتھ خوش بھی تھے کہ میری باتوں کا جواب بھی دے دیا اور یہ بھی کہا کہ بڑے اچھے طریقے سے میری دلیلوں کو انہوں نے رد کر دیا۔پس یاد رکھیں کہ ہم نے زبر دستی کسی کو منوانا نہیں ہے لیکن اپنی تعلیم سے پیچھے بھی نہیں بٹنا۔ہمیں دین کے کسی معاملے میں شرمانے کی ضرورت نہیں۔اسلام کی تعلیم ایسی اعلیٰ تعلیم ہے کہ کسی احمدی لڑکے کو لڑکی کو ، عورت اور مرد کو احساس کمتری کی ضرورت نہیں ہے۔اگر ہم نے دنیا کو اسلام کے جھنڈے تلے لانا ہے تو ہمیں ہر معاملے میں اپنے عملی نمونے پیش کرنے ہوں گے اور جرات بھی دکھانی ہو گی۔اس خاتون نے جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہ مجھے سنگ بنیاد کے دعوت نامے پر یہ پیغام لکھا ہو املا، میری باتیں سننے کے بعد اس اظہار کے علاوہ جو میں نے ابھی بیان کیا ہے اس نے یہ بھی بتایا کہ ایک سال سے میں اس حوالے سے بڑی تکلیف میں تھی۔لگتا تھا کہ میری بے عزتی کر دی گئی ہے اور سنگ بنیاد کے بعد میں بڑے بھاری دل کے ساتھ گئی تھی اور آج بھی یہاں آ تو گئی تھی لیکن بے چین تھی۔لیکن آج میں آپ کی باتیں سننے کے بعد مسکراتے چہرے کے ساتھ جارہی ہوں اور آپ کا حق ہے کہ ہاتھ ملائیں یا نہ ملائیں۔بہت سے لوگوں نے اس بارے میں اپنے تاثرات بیان کئے کہ اب حقیقی integration کی ہمیں سمجھ آئی ہے اور ہمیں اب حقیقی خلافت کی سمجھ آئی ہے۔ایک شخص نے یہ بھی کہا اور یہ ایسی بات ہے جو آپ سب مردوں اور عورتوں کے لئے بڑی اہم ہے۔(نوجوان مرد تھا) کہنے لگا کہ آپ کے خلیفہ تو بڑی عمر کے ہیں اور خلیفہ بھی ہیں۔وہ اس حوالے سے شاید اپنی تعلیم پر عمل کرتے ہوں گے۔اصل تو آپ کی تعلیم پر عمل کرنے کا جو اسلام کی تعلیم ہے اب پتا لگے گا کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اور عور تیں مرد اس پر عمل کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔اور اس پر عمل کرتے ہوئے عورتیں مردوں سے اور مرد عورتوں سے ہاتھ ملانے میں اپنے آپ کو بچاتے ہیں یا نہیں بچاتے۔اب یہ بات کھل کے سامنے آئے گی۔کہنے لگا کہ اگر دوسرے احمدی نوجوان بھی، لڑکیاں لڑکے بھی اس پر عمل کریں تو پھر میں سمجھوں گا کہ واقعی آپ اپنی تعلیم پر عمل کرنے والے ہیں۔پس یہ بہت بڑا چیلنج ہے یہاں رہنے والے ہر احمدی مرد اور عورت کے لئے جو اس شخص نے احمدی مردوں اور عورتوں کو دیا ہے۔اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی قسم کے احساس کمتری میں مبتلا ہوئے بغیر اپنی تعلیم کے چھوٹے سے چھوٹے حصہ پر بھی عمل کریں اور ان لوگوں کو بتائیں کہ یورپ میں آکر بھی ہمیں اسلامی تعلیم کی برتری کے بارے میں ہلکا سا بھی کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔اسی طرح لڑکیاں اپنے لباس اور اپنے پر دے کا بھی خیال رکھیں اور اپنی حیا اور اپنی تقدس پر کوئی حرف نہ آنے دیں۔لجنہ کی تنظیم اس طرف خاص توجہ دے۔اسی