خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 484
خطبات مسرور جلد 14 484 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2016 اب انہی تقریبات کی وجہ سے اور مسجدوں کے افتتاحوں کی وجہ سے مسجدوں کی حمایت کرنے لگ گئے ہیں کہ ہماری مسجدیں بھی شہروں کے اندر بنی چاہئیں۔ایک جگہ میئر صاحب نے کہا کہ مجھے بڑا گھمنڈ تھا کہ میں آپ کی جماعت کو جانتا ہوں۔مگر آج مجھے اسلام کے بارے میں اور خاص طور پر آپ کی اسلامی ہمدردی کے جذبات سے بھری دنیا بھر میں امداد کے بارے میں مزید سیکھنے کو ملا۔اس بارے میں جو میں نے کچھ بتایا تھا، کہتے ہیں کہ مجھے بہت خوشی ہوئی جب خلیفہ نے کہا کہ اسلام گرجوں کی حفاظت کی بھی اور دیگر تمام مذاہب کے مقتدیوں کی حفاظت کی بھی تعلیم دیتا ہے۔پھر ایک مہمان مسٹر سٹیفن (Mr۔Stefan) ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جو میں نے سوچا تھا اس سے یہ ایک انوکھا اور مختلف واقعہ تھا۔مجھے نہیں معلوم میں نے کیا امید کی تھی لیکن یہ بالکل بھی ویسا نہیں تھا بلکہ اس کے بر عکس بہت ہی پُر امن ماحول تھا جس میں خلیفہ وقت نے دوسروں کے حقوق ادا کرنے، ان کی حفاظت اور ایک دوسرے سے پیار کرنے کی بات کی۔کہتے ہیں آج میں نے اسلام کے بنیادی اصول سیکھے ہیں اور یہ سننا بہت ہی پسندیدہ بات تھی کہ خلیفہ نے کہا کہ ہمیں اپنی اچھی خوبیوں پر مرکوز رہنا چاہئے اور ایک دوسرے کی کمزوریوں اور خامیوں کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔مجھے یہ بھی پسند آیا جب انہوں نے اسلامی تاریخ بیان کی اور یہ کہا کہ کس طرح حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر سے ہجرت کرنی پڑی مگر پھر بھی ان پر ظلم ہو تا رہا۔کہتے ہیں مجھے ایسا لگا جیسے انہوں نے اسلام کے بارے میں رازوں کی ایک کتاب کھول دی ہو جسے اس سے پہلے کوئی نہ جانتا ہو۔پھر ایک مہمان خاتون کہتی ہیں کہ خلیفہ کا خطاب سنا۔میں نے ہمسایوں کے حوالے سے ایسی اعلیٰ تعلیم پہلے کبھی نہیں سنی۔اگر ہر ایک اپنے ہمسائے کے حقوق ادا کرنا شروع کر دے جیسا کہ آپ کے خلیفہ نے کہا ہے تو یہ دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔کہتی ہیں کہ خلیفہ نے کہا کہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کے بجائے دوسروں کے حقوق ادا کرو۔یقینا یہی امن کی مکمل تعلیم ہو سکتی ہے۔اس مسجد کی افتتاح کی تقریب پر جو اس علاقے کے ضلع کے سربراہ تھے انہوں نے اپنی تقریر میں ایک یہ بات کہی کہ احمدی جو عورتوں سے مصافحہ نہ کرنے کی بات کرتے ہیں اس سے integration نہیں ہو سکتی۔اس کا مطلب ہے کہ آپ لوگ ہم میں جذب نہیں ہو سکتے جب تک ہماری عور تیں آپ کے مردوں سے مصافحہ نہ کریں اور آپ کی عورتیں ہمارے مردوں سے مصافحہ نہ کریں۔تو میں نے ان کا خطاب ختم ہونے کے بعد جو اپنی مختصر سی تقریر کی اس میں ان کا جواب دیا۔اس پر انہی خاتون نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ خلیفہ نے ہاتھ ملانے کے حوالے سے بھی بات کی۔ضروری نہیں کہ اس کمرے میں موجود ہر شخص نے خلیفہ کی باتوں سے اتفاق کیا ہو لیکن میں مکمل طور پر ان کی باتوں سے اتفاق کرتی ہوں۔ہمیں دوسروں کی خوبیوں کو سراہنا چاہئے۔یہی