خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 483
خطبات مسرور جلد 14 483 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2016 بہتری پید اہو سکتی ہے۔افسر جلسہ سالانہ کا کام ہے کہ اپنے تمام شعبہ جات کی بعد میں میٹنگ کریں اور انہیں کہیں کہ اپنے اپنے شعبہ کی کمیاں نوٹ کر کے لائیں۔جہاں جہاں ان کو کوئی سقم نظر آئے وہ نوٹ کر کے لائیں تا کہ آپس کے مشورے سے ان کا بہتر حل نکالا جائے۔آئندہ سال بہتر انتظام ہو۔اور اگر لوگوں کی طرف سے کوئی اصلاح طلب یا قابل توجہ امر سامنے آئے تو فوراً کھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس شکایت کو دور کرنے کے لئے آئندہ مضبوط پلاننگ ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ اس کی بھی سب کو توفیق عطا فرمائے۔اس دورے کے دوران مجھے کچھ مسجدوں کے سنگ بنیاد اور افتتاح کرنے کا بھی موقع ملا۔یہ بھی تبلیغ کا ذریعہ بنتا ہے۔غیر مہمان آکر اسلام کے بارے میں جب معلومات لیتے ہیں تو ان کے لئے بڑی حیران کن بات ہوتی ہے کہ اسلام کی تعلیم کا یہ پہلو تو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا، نہ ہمیں دکھایا گیا۔اس وقت اس بارے میں بھی بعض تاثرات پیش کر دیتا ہوں۔ایک مسجد کے افتتاح میں ایک ہسپانوی عیسائی کہتے ہیں کہ میرا بیٹا کچھ سال قبل احمدی ہو گیا جس سے مجھے بہت پریشانی ہوئی کیونکہ میں ایک کیتھولک عیسائی ہوں اور اپنے مذہب کا بہت پابند ہوں۔مجھے افسوس تھا کہ میرا بیٹا کس جگہ پر آپہنچا ہے اور اسلام کو میں مضر جانتا ہوں، نقصان دہ سمجھتا تھا۔بہر حال آج آپ کے خلیفہ کو میں نے دیکھا اور ان کی باتیں سنیں اور مجھے ایک حقیقی امن کا احساس ہوا۔اب مجھے اس بات کی تسلی ہے کہ میرا بیٹا اچھی جگہ پر ہے۔پھر ایک خاتون مہمان تھیں کو رالا (Kurala) صاحبہ کہتی ہیں مجھے کچھ برا بھی لگا اور افسوس بھی ہوا۔کس بات پر ؟ کہ آپ کے خلیفہ کو بار بار کہنا پڑا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔لیکن میں سمجھ سکتی ہوں کہ دنیا میں آجکل جو اسلام کے بارے میں غلط پروپیگنڈہ ہو رہا ہے اور اتنی غلط باتیں اسلام کی طرف منسوب کی جاتی ہیں تو لوگوں کو سمجھانے کے لئے بار بار اس امر کا اظہار بھی ضروری ہے۔کہتی ہیں کہ بہت باریک بینی سے انہوں نے اس امر کو بیان کیا کہ اسلام امن کا پرچار کرنے والا ہے۔جس طرح بیان کیا ہے کوئی اس کے مخالف دلیل نہیں دے سکتا۔کہتی ہیں پیغام بڑا سادہ ہے کہ ہر ایک کو آپس میں گلے لگانا چاہئے اور باہم محبت اور پیار سے رہنا چاہئے۔پھر کہتی ہیں مجھے احمد یہ مسجد سے کسی قسم کا شکوہ نہیں مگر ایک افسوس ضرور ہے اور اس بات کا افسوس ہے کہ جبکہ مسجد اور گرجے کا مقام ایک ہی ہے۔مسجد مسلمانوں کی عبادتگاہ ہے ، گر جاعیسائیوں کی عبادتگاہ ہے۔ایک ہی مقام ہے تو پھر بھی گرجوں کو شہر کے مرکز میں بنانے کی اجازت ملتی ہے اور مسجدوں کو شہر سے باہر۔اور نمازیوں کو دور آنا پڑتا ہے۔یہ کونسل جو ہے کیوں شہر میں مسجد بنانے کی اجازت نہیں دیتی۔اب ان میں سے خود ایسے لوگ کھڑے ہونے شروع ہو گئے ہیں جو پہلے مسجدوں کے مخالف تھے لیکن