خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 482
خطبات مسرور جلد 14 482 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2016 ہے اور ایسا مشکل کام نہیں ہے کہ نہ بنائی جاسکے۔اس طرف توجہ دینی چاہئے۔پھر ایک بات مجھے یہ بھی پتا چلی ہے کہ عورتوں میں مہمانوں کی مارکی میں احمدی عورتوں کا بھی رش ہو جاتا تھا۔اس طرف ہماری عورتوں کو بھی توجہ دینی چاہئے اور لجنہ کی انتظامیہ کو خاص طور پر کہ ہماری لڑکیاں اور عور تیں تین دن پر ہیزی کھانا نہ کھائیں اور عام لنگر کا کھانا کھائیں تو مہمانوں کو کھانا کھانے اور کھلانے میں زیادہ سہولت ہو گی۔پھر ایک خاتون نے مجھے براہ راست سوال کے رنگ میں پوچھا لیکن مقصد واضح تھا۔یہ بتانا چاہتی تھی کہ بعض احمدی عورتوں کا حلیہ نماز کے وقت بھی صحیح نہیں ہوتا۔عورتوں کے بال نظر آرہے ہوتے ہیں۔سر ننگے ہوتے ہیں۔پوری طرح ڈھکے نہیں ہوتے۔اور اس کا اعتراض بالکل ٹھیک تھا۔سامنے سے اور پیچھے سے بالوں کو ڈھانک کے رکھنا چاہئے۔اس کی احتیاط کریں۔بچوں کی ماؤں نے بھی بعضوں نے شکایت کی ہے یا شکوہ کے رنگ میں خط لکھا یا دعائیہ رنگ میں بھی لکھا کہ آئندہ سال یہ انتظام بہتر ہو جائیں کہ زیادہ چھوٹے بچوں اور جو بہت زیادہ شور مچانے والے ہیں اور بہ نسبت بڑے بچوں کی ماؤں کی جگہ علیحدہ ہونی چاہئے کیونکہ بہت زیادہ شور کی وجہ سے تقاریر سنی نہیں جاسکتیں۔بٹھانے کا تو کوئی مقصد نہیں ہے۔پھر اس طرف بھی بعض لوگوں نے مجھے توجہ دلائی ہے کہ لڑکیوں کو جب سندات مل رہی تھیں تو اس وقت ایم ٹی اے نے زیادہ قریب سے لڑکیوں کے کلوز آپ دکھانے شروع کر دیئے حالانکہ میری یہ ہدایت ہے کہ ڈور سے دکھایا کریں اور چہرے نظر نہ آئیں۔اول تو ہر لڑکی کا پردہ بھی صحیح ہونا چاہئے لیکن اگر نہیں بھی ہے تو ایم ٹی اے کو احتیاط کرنی چاہئے۔نئی کار کنات کو اگر صحیح اندازہ نہیں ہے یا ان کو بریف نہیں کیا گیا تو اس بارے میں آئندہ پابندی کی جائے۔ایم ٹی اے یا جو بھی انتظامیہ ہے اس کا انتظام کرے۔اور پر دے کے بارے میں بعض باتیں ہیں تو انشاء اللہ میں صدرات لجنہ کو بعد میں بھیج دوں گا۔اس کا یہاں ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔جلسہ کے دنوں میں جہاں ہم جلسہ کی برکات سے فیض پاتے ہیں اور اپنی تربیت اور غیر وں کو تبلیغ کا باعث بھی بنتے ہیں وہاں ہمیں اپنی خامیوں پر بھی نظر رکھنی چاہئے۔مجھے یہ ضرورت نہیں ہے کہ ہر دفعہ بہت ساری کمزوریوں کا میں ذکر کروں یا ان کی نشاندہی کروں۔لیکن یہ بات یقینی ہے کہ خامیاں اور کمزوریاں ہوتی ہیں۔کوئی نظام بھی کامل کبھی نہیں ہو سکتا۔جہاں ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ اس نے ہماری کمزوریوں کی پردہ پوشی فرمائی ہے وہاں ہمیں، انتظامیہ کو اپنے جائزے بھی لینے چاہئیں۔خامیوں اور کمیوں کو تنقیدی نظر سے دیکھنا چاہئے۔ان کو تلاش کریں کہ کہاں کہاں ہماری کمزوریاں تھیں اور پھر جو کئی دفعہ میں کہہ چکا ہوں کہ لال کتاب بنائیں جس میں غلطیوں کا اندراج ہو۔اس میں درج کریں اور آئندہ انہیں دور کرنے کی کوشش کریں۔اسی طرح ہمارے نظام میں