خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 481 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 481

خطبات مسرور جلد 14 481 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2016 یہ حسن اخلاق کی بات ہے اور میں نے بتایا ہے کہ ہمارے اخلاق جو ہیں وہ ہر احمدی کے اعلیٰ ہونے چاہئیں۔صرف غیروں سے یا نو مبائعین سے نہیں بلکہ آپس میں بھی ہمیں ایک دوسرے سے بہت زیادہ محبت اور رحم کا سلوک کرنا چاہئے اور رنجشوں کو ختم کرنا چاہئے۔میں نے جلسہ پر بھی یہ کہا تھا۔ایک نو مبائع دوست ندیم صاحب کہتے ہیں کہ یہ میرا تیسر ا جلسہ ہے۔موصوف نے کہا کہ دوماہ قبل خاکسار روز گار کی تلاش میں جرمنی آیا ہے۔ایک روز میں نماز کے لئے بیت السبوح آنا چاہتا تھا۔ایک ٹیکسی کے ذریعہ وہاں آنے کا موقع ملا اور اتفاقاوہ ٹیکسی ایک احمد کی بھائی کی تھی۔اس احمدی بھائی نے جس محبت اور پیار سے مجھے گلے لگایا وہ محبت بے نظیر اور بے مثال تھی اور مجھے معلوم ہو گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے متبعین میں جو محبت اور پیار دیکھنا چاہتے ہیں یہ اس کی ایک جھلک ہے۔یہ تاثرات جیسا کہ پہلے میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے اور لوگوں کے بھی ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو ہماری پردہ پوشی فرماتا ہے اور عمومی طور پر لوگوں پر جلسہ کا اچھا اثر ہوتا ہے۔لیکن بعض لوگوں نے بعض کمیوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے اور ان کی نشاندہی کی ہے۔بعض مہمانوں نے بتایا کہ اس دفعہ ٹرانسلیشن سننے والی ڈیوائسز (devices ) جو تھیں ، ان میں بہتری پیدا کی جاسکتی ہے۔پہلے تو نہیں شکایت آئی، شاید اس دفعہ ہو، بعض اوقات ٹرانسلیشن کے دوران کافی شور ہو تا تھا اور دوسری زبانیں بھی اس میں مکس (mix) ہو جاتی تھیں۔اس کا تجربہ تو میں نے خود بھی کیا ہے۔میں وہاں جرمن تقریب میں جرمنوں کی تقاریر سن رہا تھا تو اس میں اردو ترجمہ کے اوپر دوسری زبانوں کے ترجمے شروع ہو گئے تھے اور بار بار انٹر فیئر نس (interference) ہوتی تھی۔پس انتظامیہ کو اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ پیسے نہ بچائیں بلکہ اچھا انتظام کریں اور اچھی ڈیوائسز (devices) لے کر آئیں۔میسیڈونیا کی ایک غیر احمدی خاتون نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بات تو ایسی اہم نہیں ہے کہ میں ذکر کروں لیکن ذکر کر دیتی ہوں۔ہمیں ایسا کھانا ملا جس کی ہمیں عادت نہیں تھی جس کی وجہ سے بعض کو بعض تکلیفیں بھی ہو گئیں۔پھر ایک خاتون نے یہ بھی ذکر کیا کہ ہمارے کھانوں میں ایسے مصالحے تھے جس کی وجہ سے ہم کھانا نہیں کھا سکیں۔ہمارے لئے بڑا مشکل تھا۔تو غیر ملکیوں کے کھانے کا انتظام تو ہو سکتا ہے۔یہ انتظامیہ کا کام ہے۔ابھی اتنی تھوڑی تعداد میں یہ لوگ آتے ہیں کہ یہ انتظام کوئی مشکل نہیں ہے یہ۔پھر سمجھتے ہیں ہم لوگ کہ پاستا (Pasta) بنا دیا تو سب کھالیں گے۔ہر ایک پاستا (Pasta) پسند نہیں کرتا۔بعض علاقوں کے لوگوں کو شور بایا اس قسم کے کھانے کی عادت ہے جو پتلا ہو۔تو وہاں کے احمدی لوگ جو آتے ہیں اور مربیان و مبلغین کے ذریعہ سے ان کی خوراک کے بارے میں پتا کر ایا جا سکتا