خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 480
خطبات مسرور جلد 14 480 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2016 کے حقوق اور ان پر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کے بارے میں جو خطاب تھا اس نے مجھ پر اسلام میں عورت کے بارے میں بہت عمدہ اثر پیدا کیا اور اب میں کہہ سکتی ہوں کہ عورت کی اسلام میں کس قدر اہمیت ہے۔کہتی ہیں کہ خواتین کے جلسہ پر خطاب پر میں بہت خوش ہوئی اور حیران تھی کہ اسلام نے کتنی عمدگی سے عورت کے ساتھ مساوات قائم رکھنے کا حکم دیا ہے اور عورت اور مرد کے حقوق کی وضاحت کی ہے۔اس خطاب کے سننے کے بعد اس موضوع کے بارے میں میرے علم میں بہت اضافہ ہوا ہے۔بیلجیم سے آنے والے ایک غیر احمدی مہمان جو سینیگال کے باشندے ہیں۔( یہ مسلمان ہیں) کہتے ہیں کہ مجھے بہت سے غیر احمدی اجلاسات اور دیگر اجلاسات اور تقریبات میں شامل ہونے کا موقع ملا لیکن جو نظام یہاں دیکھا اور کہیں نظر نہیں آیا۔ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جلسہ گاہ میں ایک شخص کرسی سے گر گیا تو تمام کارکنان جو اس وقت موجود تھے وہ اس شخص کی مدد کے لئے آگے بڑھے جیسے وہ سب سے اہم شخص ہو۔میں نے اس نظارے کو دیکھ کر سوچا کہ یہاں پر سب کو اتنی عزت اور احترام دیا جاتا ہے اور سب سے برابری کا سلوک کیا جاتا ہے۔میرے لئے اس محبت اور بھائی چارے کا آج کے دور میں نظارہ کرنا اس بات پر گواہی دیتا ہے کہ یہی تجدید دین اسلام ہے۔جماعت احمدیہ ہی آج کے دور میں اسلام کی تعلیمات پر حقیقی عمل کرتی نظر آتی ہے۔پھر یہ کہتے ہیں کہ میں ایک دوسری بات کی بھی گواہی دینا چاہتا ہوں کہ آجکل یورپ کے اکثر ممالک میں پولیس کا پہرہ ہے اور دیگر اجتماعوں میں پولیس اور پہریدار نمایاں ہوتے ہیں مگر ان تین دنوں کے دوران باوجود اس کے کہ اس جگہ پر چالیس ہزار کے قریب لوگ جمع تھے کسی قسم کی بدمزگی اور حادثہ پیش نہیں آیا اور نہ ہی اس ملک کی پولیس نظر آئی۔مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ یہاں کی پولیس کی وردی کا رنگ کیا ہے۔اس بات سے ثابت ہو تا ہے کہ احمدیت نے اسلام کی تعلیمات کو صحیح سمجھا ہے اور اس پر عمل پیرا ہے جس کی وجہ سے جلسہ کا ماحول پر امن ہے۔لتھوینیا سے آنے والی ایک مہمان خاتون کہتی ہیں کہ میرے ملک لتھوینیا میں ایک کہاوت ہے کہ ہمیشہ سیکھو، سیکھو اور ایک مرتبہ اور سیکھو۔کہتی ہیں کہ میں نے ان دنوں میں اسلام کے بارے میں بہت کچھ سیکھا ہے۔اندازہ ہو اہے کہ اسلام حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف خصوصی توجہ دیتا ہے۔میں واپس جا کر بھی اسلام احمدیت کا پیغام دوسروں تک پہنچاؤں گی۔نیز میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ اس جلسہ کے بعد سب سے بڑھ کر یہ کہ میں اپنے اندر بہت بڑی تبدیلی محسوس کر رہی ہوں۔میری نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں۔میں امید کرتی ہوں دوبارہ بھی جلسہ پر آؤں گی۔پھر ایک مہمان مسٹر ارالڈ و ( Mr۔Eraldo) جو اکاؤنٹنٹ ہیں کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ نے مسلمانوں کی محبت میرے دل میں پیدا کی ہے۔مسلمان امن چاہتے ہیں جنگ نہیں۔ISIS اسلام کی صحیح تصویر پیش نہیں کرتی۔وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ اس کے ذاتی مفادات ہیں۔