خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 479 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 479

خطبات مسرور جلد 14 479 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2016 ماننے لگ جائیں تو دنیا امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے اور ہر طرف محبت اور بھائی چارے کا بول بالا ہو۔پھر کہتے ہیں کہ جماعت احمد یہ خدا تعالیٰ کو رب العالمین مانتی ہے اور یہ نہیں کہتی کہ اللہ تعالیٰ پر صرف مسلمانوں کا حق ہے اور اس بات نے مجھے جماعت احمدیہ کے اور زیادہ قریب کر دیا ہے۔کہنے لگے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ پہلے وحی کر تا تھا، بولتا تھا مگر آج نہیں بولتا وہ غلطی پر ہیں اور احمدیت حق ہے کہ خدا تعالیٰ آج بھی اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے۔پھر کہنے لگے کہ میں اسلام کے بارے میں سوالات کے جوابات کی تلاش میں جلسہ سالانہ میں شرکت کے لئے آیا تھا اور اس جلسہ میں شرکت اور خلیفہ وقت کے خطابات اور خصوصاً دوسرے روز غیر مسلموں سے خطاب کے بعد میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مجھے اپنے سوالوں کے جوابات مل گئے ہیں۔پھر کہتے ہیں کہ جہاد کی جو تفسیر جماعت احمد یہ کرتی ہے اس سے متعلق ایک کتاب شائع کر کے مسلمانوں کو پڑھانی چاہئے۔اسی طرح مسلمانوں کو بھی جہاد کی حقیقت بتانی چاہئے اور غیر مسلموں کو بھی جہاد کی حقیقت بتانی چاہئے۔کہتے ہیں کہ اب مالٹا کے لوگوں کو احمدیت کی خوب تبلیغ کروں گا اور انہیں بتاؤں گا کہ حقیقی اسلام وہی ہے جو احمدیت پیش کر رہی ہے اور یہ اسلام امن و سلامتی کا پیغام ہے۔اب ہم جماعت احمدیہ کے ساتھ مل کر احمدیت کا پیغام اپنے ملک میں پھیلائیں گے۔تین عیسائی خواتین بھی مالٹا سے شامل ہوئیں۔دوسرا دن انہوں نے لجنہ کی مار کی میں گزارا۔اس کے بعد انہوں نے مبلغ سلسلہ کو کہا کہ آج آپ نے جو ہمیں خواتین کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع فراہم کیا ہے تو ہمیں وہاں زیادہ مزا آیا ہے اور ہم وہاں پر زیادہ آسانی اور آرام محسوس کرتی رہیں۔خواتین کے ساتھ رہ کر ہمیں زیادہ آزادی اور خود اعتمادی کا احساس ہوا ہے اور ہماری خواہش ہے کہ جلسہ کا باقی وقت بھی ہم خواتین کے ساتھ ہی گزاریں۔پس ان احمدی بچیوں کے لئے بھی اس میں سبق ہے جو سمجھتی ہیں یا ان لوگوں کے زیر اثر آ جاتی ہیں جو کہتے ہیں کہ مرد اور عورت میں تفریق نہیں ہونی چاہئے ، علیحدہ علیحدہ نہیں بیٹھنا چاہئے اور اس وجہ سے کئی نوجوانوں کے دماغ زہر آلود کر دیتے ہیں۔لاٹو یا سے آنے والے ایک وکیل آروڈز (Arvids) صاحب کہتے ہیں کہ پہلی مرتبہ جلسہ سالانہ میں شرکت کا موقع ملا۔جلسہ میں شمولیت سے قبل جماعت احمدیہ کے متعلق زیادہ معلومات نہیں تھیں لیکن ان دنوں میں اسلام کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔میں نے اپنی زندگی میں آپ سے زیادہ محبت کرنے والے، مدد کرنے والے اور خدمت کرنے والے لوگ نہیں دیکھے۔جلسہ سالانہ میں شمولیت میرے لئے فخر کا باعث ہے اور واپس جا کر میں اپنی زندگی کے متعلق دوبارہ غور کروں گا۔ایک مہمان خاتون ٹینا (Tina) صاحبہ کہتی ہیں کہ جلسہ سالانہ جرمنی میں خواتین کی تقریر میں خواتین