خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 478
خطبات مسرور جلد 14 478 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2016 سنا تھا لیکن خدا کا شکر ہے کہ میں اب خود شامل ہو کر ان سب باتوں کا عینی شاہد ہوں۔میں نے یہاں نظم و ضبط اور حسن اخلاق اور جماعت کا ایک مضبوط نظام دیکھا ہے۔پھر انہوں نے سوال کیا کہ جماعتی قوت کا راز کیا ہے ؟ مجھ سے انہوں نے سوال کیا تھا کہ کیا راز ہے۔ان کو میں نے یہی جواب دیا تھا کہ یہ جماعت کسی انسان کی بنائی ہوئی نہیں ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق، اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق جس میں کہا گیا تھا کہ ایک ایسا وقت آئے گا کہ جب مسیح موعود کا ظہور ہو گا اور وہ جماعت بنائے گا۔پس یہ خدا کی بنائی ہوئی جماعت ہے اس وجہ سے تمہیں یہ چیزیں نظر آتی ہیں۔یہ جماعت جو اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہے اس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے بنایا۔اس نے افراد جماعت اور خلافت احمدیہ کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے اور ایک ایسا نظام قائم کر دیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے سائے میں پل رہا ہے، بڑھ رہا ہے۔اگر انسانی نظام ہو تا تو گزشتہ سوا سو سال سے جس طرح مختلف طریقوں سے اس میں رخنے ڈالنے کی کوششیں کی گئی ہیں، کب کا یہ نظام درہم برہم ہو چکا ہوتا۔بلغاریہ سے بھی کافی بڑی تعداد میں لوگ آئے تھے۔76 افراد کا وفد تھا۔25 احمدی احباب تھے باقی سب غیر از جماعت تھے۔ڈاکٹر ، بزنس مین، فوج کے اعلیٰ ریٹائرڈ افسران بھی تھے۔ٹیچر بھی تھے۔پڑھے لکھے لوگ تھے۔ایک مہمان خاتون میگڈا (Magda) صاحبہ کہنے لگیں کہ یورپ کے ممالک میں بیشمار غیر ملکی مہاجرین آرہے ہیں اور مقامی لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں۔ایک بے چینی کی کیفیت پید اہو رہی ہے۔اس بارے میں انہوں نے میرا کہا کہ آپ نے جو ر ہنمائی کی ہے وہ دلوں کو سکون عطا کرنے والی ہے اور تمام بے چینیوں کا حل ہے۔اسی طرح آپ نے جو عورتوں اور مردوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے میں اس سے بڑی متاثر ہوئی ہوں۔پس غیروں کا متاثر ہونا ہم سے کچھ مطالبہ بھی کرتا ہے اور وہ یہ کہ ہم مزید اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ہمارے ہر عمل سے اس کا اظہار ہو۔ایک مہمان رستویانوف (Rustoyanov) صاحب کہتے ہیں کہ میں پہلی مر تبہ اس جلسہ میں شامل ہوا ہوں اور تمام تقاریر سے کچھ نہ کچھ میں نے نیا سیکھا ہے۔خاص طور پر خلیفہ وقت کی عورتوں کی طرف تقریر نے مجھے بہت متاثر کیا اور انہوں نے اسلام کی خوبصورت تصویر پیش کی جس کی آج بہت ضرورت ہے۔پھر مالٹا سے بھی ایک وفد آیا ہوا تھا۔اس میں ایک ڈاکٹر بھی تھے۔نائیجیرین اور یجن کے ہیں لیکن مالٹا میں رہتے ہیں۔کہتے ہیں کہ میں نے کئی سال قبل اسلام کو سمجھنے کے لئے چھ ماہ کا کورس کیا تھا۔اس کورس کے بعد یہ محسوس ہوا کہ اسلام ہی وہ جگہ ہے جہاں میں جا سکتا ہوں مگر بعض مسلمانوں کی غلط حرکات اس خوبصورت امیج کو داغدار کر رہی ہیں اور پھر تشویش بھی ہوئی۔مگر جماعت احمد یہ وہ واحد مسلمان تنظیم ہے جو اسلام کی خوبصورت تعلیم کو بیان کرتی ہے اور اس پر عمل پیرا ہے۔جہاد کی جو تعریف احمد یہ جماعت کرتی ہے اگر تمام مسلمان اس جہاد کو