خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 477
خطبات مسرور جلد 14 477 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2016 آئی اور اب میں اس جماعت کے بارے میں اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہوں۔گو کہ یہ آزمانا جو ہے یہ کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔بعض لوگ ایسے ہیں کہ ان کو temptetion ہو جاتی ہے۔لیکن یہ پتالگ گیا کہ کس نیت سے بعض لوگ آتے ہیں۔اس لئے ہر احمدی کو جلسوں میں خاص طور پر بہت زیادہ محتاط ہونا چاہئے۔ایک مہمان علی صاحب جن کا تعلق شام سے ہے، کہتے ہیں مجھے جماعت کا تعارف ایک عرب احمدی کے ذریعہ ہوا اور ایک جماعتی تبلیغی میٹنگ میں شامل ہونے کا موقع ملا جس میں جماعت کے تفصیلی عقائد پر بات چیت ہوئی اور کافی حد تک میری تسلی ہو گئی۔اس کے بعد فیملی کے ساتھ جلسہ جرمنی پر جانے کا اتفاق ہوا۔وہاں جماعت کی تنظیم اور روحانی ماحول دیکھ کر بہت تعجب ہوا۔میرے لئے یہ بہت ہی خوبصورت موقع ہے کہ میں آپ کے ساتھ وقت گزار رہا ہوں۔میں آپ کی حسن ضیافت اور بھائی چارے اور مہمانوں کو خوش آمدید کہنے اور مہمانوں کے لئے اپنی راتیں قربان کرنے پر شکر گزار ہوں۔یقیناً جماعت احمد یہ ایک مسلم جماعت ہے اور اسلام کی ایک خوبصورت تعلیم پیش کرتی ہے اور اس کا جمال دوسروں پر ظاہر کرتی ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اس چھپی ہوئی خوبصورتی کو غور و فکر اور research کے ذریعہ سے دوسروں پر ظاہر کریں۔رومانیہ سے ایک نو مبائع فلوریان (Florian) صاحب ہیں۔کہتے ہیں جلسہ کے جملہ انتظامات سے بیحد متاثر ہوا ہوں۔ہر انتظام بہت مکمل اور نپا تلا اور بہترین ہے۔کسی انتظام کے متعلق یہ کہنا مشکل ہے کہ اس میں کوئی کمی ہے یا نقص ہے۔اتنے بڑے اجتماع کے لئے ایسا وسیع انتظام جو مکمل بھی ہو بیحد محنت اور جانفشانی اور سالوں کی پلاننگ اور تجربے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔کہتے ہیں کہ مسکراتے ہوئے چھوٹے چھوٹے بچے پانی پلا کر ایسی خوشی میں جھوم جاتے ہیں جیسے انہوں نے اپنی کوئی گمشدہ چیز کو حاصل کر لیا ہو۔غرض ہر کارکن اپنی ڈیوٹی میں پورا مگن، محو اور مہمانوں کی محبت سے سرشار ہے۔میں نو احمدی ہوں۔پہلی بار جلسہ میں آیا ہوں اور میں نے پہلا سبق ایئر پورٹ سے جلسہ کے اختتام تک یہی سیکھا ہے کہ عملاً خدمت، محبت اور خندہ پیشانی سے پیش آنا ہے۔پھر یہ بیعت کی تقریب میں بھی شامل ہوئے اور اس کا تاکثر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بیعت کے وقت ایک خوشی کی لہر اور ایک عجیب سا احساس تھا، الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ایک خاص کیفیت کو میرے دل نے محسوس کیا۔بیعت کے وقت میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔یوں لگتا تھا کہ ایک مقناطیسی فیلڈ بن گیا ہے اور سب ایک جذب اور کشش کے گھیرے میں ہیں۔کہتے ہیں یہ جلسہ میرے لئے ایک خواب سے کم نہ تھا۔کوسودو کے ایک بائیرم(Bajram) صاحب کہتے ہیں میں نے بہت سے لوگوں سے جلسہ کے بارے میں