خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 476 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 476

خطبات مسرور جلد 14 476 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2016 میں پہلی بار میں نے دیکھا کہ ایک جگہ اتنی زیادہ تعداد میں لوگ موجود ہیں، سب تہذیب یافتہ ہیں، کسی کے چہرہ پر غصہ یا نفرت کے آثار نہیں تھے کہ دوسروں کو کمتر سمجھیں۔تمام لوگوں کارویہ میرے ساتھ بہت اچھا تھا۔پھر کہتے ہیں خلیفہ کی تقاریر سے متاثر ہوا۔بہت طاقتور تھیں جو سب پر اثر ڈال رہی تھیں۔ان کی تقاریر لوگوں کے دلوں تک پہنچ رہی تھیں۔میں صفائی کے معیار سے بھی حیران ہوا۔ٹائلٹ ہر وقت صاف تھے جبکہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ تھے۔اس بات نے خاص اثر مجھ پر چھوڑا۔میرے ساتھ ایک دوست بھی آئے ہوئے تھے جو عیسائی ہیں۔جلسہ کے آغاز سے وہ اتنا متاثر ہوا کہ بیان کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔کہتے ہیں میں بہت متاثر ہوا۔اب جبکہ میں اپنے تاثرات قلمبند کر رہاہوں، میر اوہ ساتھی اسلام کے بارے میں کتب کا مطالعہ کر رہا ہے۔اسی طرح وہ جماعت احمدیہ کی تاریخ بھی پڑھ رہا ہے اور میسیڈونیا کی جماعت نے جلسہ پر جو نظم پڑھی تھی وہ سن رہا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا جلسہ کاماحول بھی ایک خاموش تبلیغ کر رہا ہو تا ہے۔بوسنیا سے ایک دوست ڈاکٹر عادل تھے۔کہتے ہیں کہ جلسہ کے تمام انتظامات اور پروگرام اپنی نوعیت میں منفر د تھے۔کہتے ہیں میں بحیثیت ایک ڈاکٹر گزشتہ پچیس سال سے مختلف پروگراموں میں شمولیت اختیار کرتا رہا لیکن اس قسم کے انتظامات اور نظم وضبط مجھے کہیں بھی نظر نہیں آئے۔کہتے ہیں اسلام کی بنیاد اطاعت اور نظم وضبط پر ہے اور یہی بات مجھے یہاں جلسہ میں نظر آئی۔ایک مہمان دانیال صاحب ہیں۔کہتے ہیں کہ یہ جلسہ ہزاروں روحانی مر دوں کو زندگی بخشنے والا جلسہ تھا اور ان روحانی مر دوں میں سے ایک میں بھی ہوں جسے جلسہ میں شامل ہو کر از سر نو روحانی زندگی عطا ہوئی ہے۔کہتے ہیں کہ اگر چہ میں کئی سالوں سے جماعت میں شامل ہوں مگر اس سے قبل دل نے اس روحانی تپش کو محسوس نہیں کیا تھا جو اس جلسہ نے دی ہے اور اب مجھے از سر نو روحانی زندگی عطا ہوئی ہے۔پھر بوسنیا سے ایک غیر از جماعت نور یا صاحب ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ لوگوں سے جلسہ کا ذکر سنا کر تا تھا لیکن مجھے خود شامل ہونے کی توفیق نہیں ملی۔اس سال جلسہ میں شامل ہونے کے بعد میرے دل میں ایک عجیب کیفیت طاری ہے جو کہ خارج از بیان ہے۔میں اندر سے بدل چکا ہوں۔پھر لوگ کس طرح آزماتے ہیں یہ بھی دیکھیں۔یہ نہیں کہ لوگ صرف آتے ہیں بلکہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہم آزما کے تو دیکھیں احمدی ہیں کیسے؟ کہاں کہاں ان میں نقص ہیں تا کہ اس نقص کو تلاش کیا جائے۔تو عمار صاحب جو سیرین ہیں اور جرمنی میں رہتے ہیں۔کہتے ہیں حقیقت میں میں جماعت کا مخالف ہوں۔میں اس لئے آیا تھا کہ میں خامیاں دیکھوں گا اور پھر ان کو مشہور کروں گا۔میں نے تین دن اپنا موبائل میز پر رکھے رکھا لیکن چوری نہیں ہوا۔میں نے ہر لحاظ سے انتظامات اور لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا مگر مجھے ایک بھی خامی نظر نہیں