خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 475 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 475

خطبات مسرور جلد 14 475 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2016 ہاتھوں سے قرآن مجید لکھنے کا idea مجھے بہت اچھا لگا۔مختلف ممالک سے آئے ہوئے لوگوں کو اکٹھا ہوتے دیکھ کر بھی بڑا اچھا لگا۔پھر مراکش کے ایک نوجوان جلیل صاحب ہیں۔یہ بیلجیم میں رہتے ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ میرے والد عبد القادر نے جلسہ سالانہ یوکے کے موقع پر بیعت کی تھی اور وہی انہیں یہاں جرمنی لے کے آئے تھے۔کہتے ہیں میں پہلی بار کسی بھی جلسہ میں شامل ہو اہوں۔ایک نوجوان ہونے کے طور پر میں اپنے نوجوان بھائیوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسے موقعوں پر شامل ہوا کریں کیونکہ اس جلسہ سے میری روحانیت میں اضافہ ہوا ہے اور مجھے اچھا محسوس ہو رہا ہے۔جب ہم نوجوان باہر سڑک پر چلتے ہیں تو سڑک پر چلتے لوگ شاذ ہی آپ کو سلام کرتے ہیں مگر یہاں اس جلسہ میں ہر کوئی ایک دوسرے کو سلام کرتا نظر آرہا تھا اور یہ بات بڑی متاثر کن تھی۔میں خدا تعالیٰ کا نہایت شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے ایسا موقع عطا فرمایا اور مجھے اس مبارک جلسہ میں شامل ہونے کی توفیق دی۔کہتے ہیں کہ میں شروع میں جب یہاں آیا تو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ میں یہاں تین دن کیا کروں گا۔مگر میں نے اس جلسہ کی تقریبات میں حصہ لیا اور یہاں کا بھائی چارہ اور پیار و محبت دیکھی تو مجھے پتا بھی نہیں لگا کہ یہ تین دن کہاں گئے۔جلسہ کے تیسرے دن میں نے بیعت میں شمولیت کی۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا میسیڈونیا و غیرہ سے آئے تھے۔ایک عیسائی دوست ٹونی (Toni) آئے۔کہتے ہیں کہ میرا تعلق صحافت سے ہے۔میں قبل ازیں جلسہ سالانہ جرمنی اور یو کے میں شامل ہو چکا ہوں۔پچھلے سال جب پہلی بار میں جلسہ میں شامل ہوا تو بہت متاثر ہوا تھا کہ اتنی تعداد میں لوگ ایک بڑے اجتماع میں شامل ہیں اور سب انتظامات احسن طریق پر ہیں۔سب لوگ ڈسپلن کے ساتھ تھے۔ایک دوسرے کے احترام کر رہے تھے۔پہلے میں یہ سمجھا کہ یہ سب کچھ by chance ہے یا حقیقت میں سب کچھ ہو رہا ہے۔اس سے مجھے کوئی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔کہتے ہیں مجھے لگا جیسے یہ کوئی خواب ہے۔یہ جلسہ انسانوں کا عظیم اجتماع ہے۔پھر میں اگست میں انگلینڈ میں یو کے کے جلسہ میں شامل ہوا، اب دوبارہ جرمنی میں ہوں تو مجھے یقین ہوا کہ جلسہ کے انتظامات بڑے پر فیکٹ (perfect) ہیں۔میری عمر باون سال ہے۔میں نے اپنی زندگی میں اس طرح منظم اجتماع نہیں دیکھا۔میں نے جلسہ کے انتظامات میں کوئی کمی نہیں دیکھی، نہ یو کے میں نہ یہاں۔صحافی بڑی تنقید کی نظر سے دیکھتے ہیں لیکن یہ احمدیت کی خوبصورتی ہے کہ ہر جگہ ان کو ایک سی چیز نظر آئی۔پھر ایک غیر احمدی مسلمان صحافی سیناد (Senad) صاحب ہیں۔کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ کے انتظامات سے میں بہت متاثر ہوا ہوں۔جب میں نے جلسہ میں شامل ہونے کی حامی بھری تو میرا اندازہ نہیں تھا کہ اس طرح کا جلسہ ہو گا اور اتنا کامیاب ہو گا۔جلسہ کے دوران بہت سی باتیں ہیں جنہوں نے مجھ پر بہت مثبت اثر چھوڑا۔زندگی