خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 474
خطبات مسرور جلد 14 474 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2016 آج شوق اور ڈر کی وجہ سے میر ادل سینہ میں بڑی تیزی سے دھڑک رہا ہے۔میں تمام مسلمانوں سے کہوں گا کہ یہی دین اسلام ہے اور اس اسلام احمدیت میں داخل ہو جائیں۔میرے لئے ناقابل یقین بات ہے کہ آج خلیفہ کے سامنے بیعت کے لئے حاضر ہوں۔چودہ سال کی عمر سے مجھے یاد ہے کہ میں مولویوں سے احادیث سنتا تھا کہ مہدی منتظر آئیں گے۔آج میری وہ خواہش پوری ہو گئی۔میں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔پس جلسہ خاموش تبلیغ کا ذریعہ بن جاتا ہے یا ماحول جو ہے وہ تبلیغ کا ذریعہ بن جاتا ہے۔تقریریں جو ہیں وہ تبلیغ کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور لوگوں کے دلوں پر اثر ڈالتی ہیں۔اس لئے ہمارا ہر عمل جو ہے، صرف تقریریں نہیں بلکہ ہر احمدی کا ہر عمل جو ہے اس کو اپنے عمل کو اس طرح بنانا چاہئے کہ غیروں پر بہترین اثر کرے۔صرف دکھانے کے لئے نہیں بلکہ حقیقت میں ہمارا ہر عمل ہمارے دل کی آواز ہو ، ہمارے عقیدے کی آواز ہو۔جلسہ سالانہ پر یورپ کے مختلف ممالک سے غیر مہمان جو آتے ہیں وہ بھی بڑے متاثر ہو کر جاتے ہیں احمدی اگر نہیں بھی ہوتے تو متاثر ضرور ہوتے ہیں بلکہ بعض جماعت احمدیہ کے سفیر بن کر تبلیغ کا بھی کہتے ہیں۔اس سال جرمنی کے جلسہ پہ جو وفود باہر سے آئے ان میں لتھوینیا، لائویہ، میسیڈونیا، بوسنیا، البانیا، رومانیہ، کوسووود، بلغاریہ، قازقستان، مالٹا، بیلجیم، کروشیا اور ہنگری سے لوگ آئے تھے۔ان وفود کی میرے سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔لتھوینیا سے آنے والی ایک مہمان خاتون ماریہ صاحبہ جو لیگل اکاؤنٹنسی سروس میں پراجیکٹ مینیجر ہیں، کہتی ہیں کہ جلسہ میں شامل ہونا میری زندگی کا ایک بہت اچھا تجربہ ہے۔کام کے حوالے سے اکثر پاکستان، ایران، عراق اور دبئی کے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے جو اسلام کو ماننے والے ہیں۔مجھے میرے دوست اکثر یہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ اسلام کے ماننے والے ہیں اور اسلام دہشتگردی کا مذہب ہے۔لیکن جلسہ میں شمولیت کے بعد میں یہ ماننے پر مجبور ہوں کہ مسلمان لوگ بہت اچھے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرنے والے ہیں۔مجھے ان دنوں کے دوران یوں محسوس ہوا جیسے میں اپنے ہی گھر میں رہ رہی ہوں۔اس لئے میں واپس جا کر اپنے دوستوں کی مسلمانوں کے بارے میں رائے کو تبدیل کروں گی۔پھر لتھوینیا سے آنے والے ایک مہمان تو مس چیپ ئتس (Thomas Cepaitis) کہتے ہیں یہ مرد ہیں جو لتھوینیا میں ایک علاقہ اوزو پس (Uzhupis) کے وزیر خارجہ ہیں کہتے ہیں۔یہ ایک عظیم جلسہ ہے اور اس جلسہ نے اسلام کے بارے میں میرے تصورات کو ہمیشہ کے لئے بدل کر رکھ دیا ہے۔مجھے اس سے قبل جماعت کا زیادہ تعارف نہیں تھا۔جماعت کے لوگ بہت ہی مہمان نواز ہیں اور محبت کرنے والے ہیں۔نمائش میں مختلف لوگوں کے