خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 473
خطبات مسرور جلد 14 473 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2016 تعارف ایک احمدی کے ذریعہ ہوا۔اس کے بعد جامعہ احمدیہ میں دو عرب میٹنگز میں فیملی کے ساتھ شامل ہونے کا موقع ملا جن میں آپ کے امام کے ذریعہ ، یہاں جو مقامی امام تھے ان کے ذریعہ ، جماعتی عقائد کا علم ہوا جو میرے لئے بالکل نئے اور حقائق پر مبنی اور دل میں اثر کر جانے والے تھے۔پھر مجھے جلسہ سالانہ پر جانے کا موقع ملا۔میرے لئے یہ منظر انتہائی حیران کن تھا کہ انتہائی تنظیم خدمت کا جذبہ، انسانی اقدار، مختلف قومیتوں کے لوگ مگر اخوت اور بھائی چارے کی یہ فضا میرے خیال سے دنیا میں احمدیت کے سوا کہیں نظر نہیں آتی۔کہتے ہیں مجھے ہر طرف محبت ہی محبت نظر آئی اور خلیفہ کے خطابات دلی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔کہتے ہیں میں حلفاً کہتا ہوں کہ دنیا میں اسلام کی یہ انتہائی خوبصورت تصویر کسی اور فرقے کے پاس نہیں ہے اس لئے سب کچھ آنکھوں سے دیکھنے کے بعد مجھے اور میرے خاندان کو احمدیت قبول کرنے میں ذرا بھی تردد نہیں ہوا اور واپس آکر جب ہم نے اپنے رشتہ داروں کو یہ سب کچھ بتایا کہ ہم نے احمدیت قبول کر لی ہے تو وہ کہنے لگے کہ آپ لوگوں نے ہمیں کیوں نہیں بتایا، ہمیں کیوں نہیں ساتھ لے کر گئے۔ہم بھی یہ تمام باتیں سن کر جماعت میں شامل ہو نا چاہتے ہیں۔پھر ایک اور دوست سلمان صاحب ہیں۔کہتے ہیں میرا جماعت سے تعارف ایک احمدی کے ذریعہ سے ہو ا۔ان کے اخلاق سے میں بیحد متاثر ہو ا ہوں۔چنانچہ میں نے جماعت کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔اسی سلسلہ میں جلسہ میں آیا۔یہاں سب کچھ دیکھ کر میری دنیا بدل گئی۔جلسہ کے ماحول نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ایسا منظم اجتماع میں نے زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔لوگوں کے اخلاق ، ان کا حسن سلوک اور پیار محبت کی فضا یہ تمام چیزیں آجکل دنیا میں سوائے احمدیت کے اور کہیں نظر نہیں آتی اور انہی چیزوں کو دیکھ کر میں آج جماعت احمدیہ میں داخل ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔چنانچہ انہوں نے بیعت کر لی۔پس یہ حُسن اخلاق جو ہے اس کا بھی ایک احمدی کو ایک نمونہ ہونا چاہئے۔یہ تبلیغ کا ذریعہ بنتا ہے۔پھر بوسنیا کے ایک مہمان تھے بائیرم (Bajram) صاحب انہوں نے بھی بیعت کی۔کہتے ہیں پہلی بار جلسہ سالانہ میں شمال ہوا ہوں۔جلسہ کے موقع پر مجھے احمدیت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور جماعت کا زیادہ سے زیادہ تعارف حاصل ہوا۔یہ جماعت سچی جماعت ہے جو صراط مستقیم پر قائم ہے۔جلسہ پر جب میں نے خلیفہ وقت کی باتیں سنیں تو میں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کا فیصلہ کر لیا اور بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہو گیا۔میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ خلیفہ وقت نے مجھے اپنے الفاظ سے اپنے قریب کر لیا۔اب میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ اس جماعت کا حصہ ہوں۔میں وعدہ کرتاہوں کہ اس پیغام کو آگے پھیلاؤں گا۔پھر بیجیم سے آنے والے ایک مہمان گر بو صاحب ہیں۔کہتے ہیں کہ ایسا عظیم الشان روحانی اجتماع ہے اور ایسالگ رہا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو لمبے عرصے سے جانتے ہیں۔پہلے میں نے خط کے ذریعہ بیعت کی تھی مگر