خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 472
خطبات مسرور جلد 14 472 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2016 کی کارروائی کے سننے اور دیکھنے کا انتظام فرمایا ہوا ہے۔پس یہ تمام کارکنان ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے۔میں بھی ان سب کام کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے جلسہ کو ہر لحاظ سے کامیاب کرنے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ بھر پور خدمت کرنے کی توفیق پائی۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو آئندہ پہلے سے بڑھ کر خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔یہ جلسہ جہاں ہماری تربیت کے سامان کرتا ہے، جلسہ پر شامل ہونے والوں کی خاص طور پر ، اور ایم ٹی اے کے ذریعہ دنیا میں یہ پرواگرام دیکھنے والوں کے لئے عام طور پر۔وہاں غیر احمدی اور غیر مسلم مہمان جو جلسہ پر آتے ہیں اور یا پھر احمدیوں سے رابطے رکھنے والے ہیں اور اس وجہ سے ایم ٹی اے پر ہمارے پروگرام دیکھتے ہیں، بعض مخالفین بھی دیکھتے ہیں۔اکثر اوقات پھر یہ جلسہ ان لوگوں کے لئے تبلیغ کا ذریعہ بن جاتا ہے، شامل ہونے والوں کے لئے بھی اور دنیا میں پھیلے ہوئے لوگوں کے لئے بھی۔کئی احمدی اس کا اظہار کرتے ہیں کہ جلسہ کی وجہ سے ان کا تعلق ہمارے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے اور جماعت کو جاننے کی طرف ان کی توجہ پیدا ہوئی ہے۔بعض غیر مسلم، غیر احمدی لوگ ایسے ہیں جو یہاں جلسے پر آتے ہیں اور یہاں کا ماحول دیکھ کر بیعت کر کے جماعت احمدیہ مسلمہ میں شامل ہو جاتے ہیں۔پس بیشمار برکتیں ہیں جو جلسہ سالانہ کی ہیں اور اس کا اظہار اب ہر ملک کے جلسہ کے حوالے سے ہوتا ہے۔جرمنی میں جو جلسے کے دوران غیروں پر اثر ہوا ان میں سے کچھ واقعات میں اس وقت پیش کرتا ہوں۔جلسہ جرمنی پر بھی گزشتہ دو تین سال سے بیعت کرنے کا پروگرام رکھا جاتا ہے۔اس سال چودہ ممالک سے تعلق رکھنے والے 83 عورتوں اور مردوں نے بیعت میں حصہ لیا اور بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کی۔بعض بیعت کرنے والوں کے دل جلسہ کی کارروائی اور احمدیوں کے رویے اور حسن سلوک دیکھ کر احمدیت کی طرف پھر گئے اور اس وجہ سے انہوں نے بیعت کر لی۔بوسنیا سے آنے والے ایک مہمان ابراهیموو (Ibrahimov) صاحب کہتے ہیں کہ احمدیت ہی حقیقی سچائی ہے جو قرآن کریم کی تعلیم پر عمل پیرا ہے۔میرے خطبات کا ذکر کر کے کہتے ہیں کہ مجھ پر سب سے زیادہ اثر ان کے خطبات اور تقریروں کا ہوا۔کہتے ہیں کہ انہوں نے میرے سوالوں کے تسلی بخش جواب دیئے۔میرا دل ہر لحاظ سے مطمئن ہوا اور میں بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہو گیا۔کہتے ہیں کہ اب میں خلیفتہ المسیح کا ہی بن کر رہنا چاہتا ہوں۔میری خواہش ہے کہ مجھے ان کا قرب حاصل ہو۔مجھے آپ لوگوں کی تنظیم، محبت اور امن نے اپنا دیوانہ بنا لیا ہے۔پھر ایک دوست ریاض صاحب یہاں رہتے ہیں جن کا تعلق عراق سے ہے کہتے ہیں کہ میر ا جماعت سے