خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 469 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 469

خطبات مسرور جلد 14 469 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 ستمبر 2016 تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے آئے ہیں۔جب یہ مقصد ہے تو پھر صرف تقریریں سن کر علمی حظ اٹھانے سے یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔جب تک ہم اپنے اندر عملی تبدیلیاں پیدا نہ کریں۔اور عملی تبدیلیوں کے لئے جہاں عبادت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنا ہے وہاں اعلیٰ اخلاق اور لغویات سے بچ کر ایک دوسرے کا بھی حق ادا کرنا ہے۔پس اس کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہماری پردہ پوشی فرمائی ہوئی ہے اور ہماری غلطیاں ابھر کر غیروں کے سامنے نہیں آتیں ورنہ اگر ہم میں سے ہر ایک اپنا جائزہ لے تو ہمیں پتا لگے گا کہ کتنی کتنی غلطیاں ہیں اور ہم میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے معیار کے مطابق کتنی کمزوریاں پائی جاتی ہیں اور یہ کمزوریاں جماعت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام کو بد نام کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہماری طرف منسوب ہو کر ہمیں بد نام نہ کرو۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 146) اگر ہماری عبادتوں کے معیار اچھے نہیں تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بدنام کرنے کا ذریعہ بن رہے ہوں گے۔اگر ہمارے اخلاق اچھے نہیں تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بد نام کرنے کا ذریعہ بن رہے ہوں گے۔اگر ہم لغویات میں گرفتار ہیں تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بدنام کرنے کا ذریعہ بن رہے ہوں گے۔پس ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو ہم احمدیوں پر ہے اور ہمیں اپنے جائزے لیتے رہنے کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ: "جو شخص ایمان کو قائم رکھنا چاہتا ہے وہ اعمال صالحہ میں ترقی کرے۔" فرمایا کہ " یہ روحانی امور ہیں اور ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 366) اعمال کا اثر عقائد پر پڑتا ہے۔" پس صرف یہ کہنا کہ میں عقیدے کے لحاظ سے نہایت پختہ احمدی ہوں کافی نہیں ہے اگر نیک اعمال نہیں ہیں، اگر اعلیٰ اخلاق نہیں ہیں۔کیونکہ اعمال صالحہ میں کمزوریاں آہستہ آہستہ ایمان میں کمزوری کا بھی باعث بن جاتی ہیں۔کیا کرو۔" پھر نمازوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " نماز سوزو گداز سے ادا کر و اور دعائیں بہت ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 367) پس ان دنوں میں اور ہمیشہ اپنی نمازوں میں سوزو گداز پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ خدا تعالیٰ سے ہمارا تعلق مضبوط ہو۔اور ان جلسوں میں شامل ہونے کا حقیقی مقصد تو یہی ہے کہ ہم روحانی طور پر ترقی کریں۔آپس میں اچھے تعلقات اور ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ