خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 468 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 468

خطبات مسرور جلد 14 468 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 ستمبر 2016 ہو جاتے ہیں۔" اور لغو باتوں اور لغو حرکتوں اور لغو مجلسوں اور لغو صحبتوں سے اور لغو تعلقات سے اور لغو جوشوں سے کنارہ کش (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 198) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تمام لغویات کی نشاندہی فرما دی۔اب جتنی باتوں کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذکر فرمایا ہے یہ سب ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ایک لغو کام دوسرے لغو کام کی طرف لے کر جاتا ہے اور اگر غور کریں تو لغو کام لغو باتیں اور لغو حرکتیں جن سے سرزد ہوتی ہیں وہ لغو مجلسوں میں بیٹھنے والے ہوتے ہیں۔لغولوگوں کی صحبت سے اور میل ملاپ سے، تعلقات سے اور لغو قسم کے جوشوں سے پیدا ہوتی ہیں۔ذرا ذراسی بات پر جوش میں آجانا اور غصہ میں آجانا ان سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔اب اعتکاف پر بیٹھ کر تاش کھیلنے والوں کی میں نے مثال دی ہے۔کہنے کو تو مسجد میں بیٹھے ہیں، اعتکاف میں بیٹھے ہیں، لیکن عبادت کے مقصد کو پورا کرنے کی بجائے لغویات میں مبتلا ہیں۔اب ان کے ساتھ بیٹھنے والے بھی ویسے ہی لوگ ہوں گے جیسے یہ ہیں۔ایسے لوگوں کی صحبت بھی خراب کرتی ہے چاہے وہ مسجد میں بیٹھے ہوں۔لیکن ہم جلسہ پر آنے والوں میں ان دنوں میں ایسی پاک تبدیلی پید اہونی چاہئے کہ صرف جلسہ کے دنوں میں نہیں بلکہ بعد میں بھی ہماری صحبت میں بیٹھنے والے ہمیشہ لغویات سے پر ہیز کرنے والے ہوں۔ایسی مجلسیں ہوں جن کے ساتھ بیٹھنے والے کبھی رد نہیں کئے جاتے۔اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہونے والے لوگ ہوتے ہیں۔ہمارے اخلاق اعلیٰ ہوں۔ہماری سچائی کے معیار اعلیٰ ہوں جو دوسروں کو بھی ہمارے عملی نمونوں کو دیکھ کر نیک تبدیلیاں پیدا کرنے والا بنادے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ ہمیں نصیحت فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : " ایک اور بات بھی ضروری ہے جو ہماری جماعت کو اختیار کرنی چاہئے اور وہ یہ ہے کہ زبان کو فضول گوئیوں سے پاک رکھا جاوے۔" فرمایا " زبان وجود کی ڈیوڑھی ہے اور زبان کو پاک کرنے سے گویا خد اتعالیٰ وجود کی ڈیوڑھی میں آجاتا ہے۔جب خد اڈیوڑھی میں آگیا تو پھر اندر آنا کیا تعجب ہے۔" (ملفوظات جلد 3 صفحہ 246-245) ڈیوڑھی کیا ہے ؟ ڈیوڑھی کہتے ہیں کسی گھر کے مین (main) دروازے کو، مین گیٹ (main gate) کو۔جب خد اتعالیٰ آپ کے گھر کے قریب آگیا، دروازے پر آگیا تو پھر آپ فرماتے ہیں کہ اس کا اندر آنا کوئی بعید نہیں۔کوئی تعجب نہیں کر سکتا کہ وہ اندر نہیں آئے گا۔پس اللہ تعالیٰ لغویات سے بچنے والوں اور حسن اخلاق دکھانے والوں، نرم زبان استعمال کرنے والوں کے قریب ہو جاتا ہے اور اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ اگر نیکیوں میں با قاعدگی رہے تو خدا تعالیٰ پھر ایسے لوگوں پر اپنا فضل فرماتے ہوئے انہیں اپنابنا لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا گھر میں آنا یہی ہے کہ اس بندے کو اپنا بنالے اور جب اللہ تعالیٰ اپنا بنا لیتا ہے تو عبادات میں بڑھنے اور نیکیوں میں بڑھنے کی انسان کو توفیق ملتی چلی جاتی ہے۔پس نیکیوں سے نیکیاں پیدا ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں۔جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ہم یہاں اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اور اپنے اندر پاک