خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 467 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 467

خطبات مسرور جلد 14 467 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 ستمبر 2016 فرماتا ہے کہ عاجزانہ نمازیں پڑھو۔اللہ تعالیٰ کے کامل فرمانبردار بنتے ہوئے نمازیں پڑھو۔ظاہری نمازیں نہ ہوں۔باجماعت نمازوں کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ جہاں ایک وحدت پیدا ہو، ایک جسم بن کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں اور اسی طرح ایک دوسرے کی روحانیت اور نیکی بھی ایک دوسرے میں سرایت کرے اور جذب ہو۔پس جو عاجزانہ نمازیں پڑھ رہے ہوں گے ، خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے جھک رہے ہوں گے ان کا اثر کم درجے والوں پر بھی پڑے گا جو ساتھ کھڑے ہوں گے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت کرتے ہوئے یہ نمازیں پڑھی جارہی ہوں گی، عاجزی ہو گی تب یہ باتیں ہوں گی۔کئی لوگ مجھے لکھتے بھی ہیں کہ جلسہ کے دنوں میں خشوع و خضوع کی نمازوں کا انہیں بہت مز ا ملتا ہے تو اس مزے کو حاصل کرنے کی ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے تاکہ ان مومنین میں شامل ہونے والے بن جائیں جو فلاح پانے والے ہیں، جو کامیاب ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فلاح پانے والوں اور کامیاب ہونے والوں کے لئے مختلف ذریعے بنائے ہیں۔ان ذریعوں کے اپنانے سے حقیقی اور مکمل کامیابی ملتی ہے۔جو آیات میں نے پڑھی ہیں ان سے ظاہر ہے کہ دوسرا ذریعہ اللہ تعالیٰ نے لغو سے اعراض کا فرمایا ہے۔پس اس طرف بھی ہر احمدی کو جلسہ کے دنوں میں بھی اور بعد میں بھی خاص توجہ دینی چاہئے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے اللغو کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں تمام چیز میں آجاتی ہیں۔یعنی ہر قسم کا جھوٹ ، ہر قسم کے گناہ، تاش، جوا، گپیں مارنا، نکتہ چینیاں کرنا۔یہ سب چیزیں اس میں شامل ہیں۔(ماخوذ از حقائق الفرقان جلد 3 صفحہ 171) تاش جوئے کی مثال آپ نے دی ہے اس سے مجھے " Whats App" پر بھیجی ہوئی ایک تصویر یاد آگئی۔بعض لوگوں پر تو نیک ماحول اور نیک اور مقدس مقامات کا بھی کوئی اثر نہیں ہو تا۔ایک حج پر جانے والے کا تو میں نے ذکر کیا ہے، اس کی مثال دی ہے۔جس تصویر کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ مسجد میں اعتکاف بیٹھنے والوں کی تصویر تھی جس میں ایسے لوگ بھی تھے۔کچھ لوگ قرآن کریم یا کچھ کتابیں پڑھ رہے ہوں گے یا حدیث وغیرہ جو بھی پڑھ رہے تھے۔لیکن کچھ ایسے بھی تھے جو مسجد میں بیٹھے ہوئے ہیں۔مسجد کا ماحول صاف نظر آرہا ہے اور وہاں تاش کھیل رہے تھے۔لکھنے والے نے اس پہ comment اپنا یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ یہ لوگ مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔تو یہ حال ہے بعض لوگوں کا کہ عبادتوں میں بھی لغویات کرنے سے باز نہیں آتے لیکن پھر بھی یہ لوگ پکے مسلمان ہیں اور احمدی کا فرا یہ لوگ تو اللہ تعالیٰ سے بھی عملاً استہزاء کر رہے ہیں۔ان سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے۔پس یہ نمونے جو ہم غیروں کے دیکھتے ہیں تو ہمیں ان سے سبق لینا چاہئے کہ کبھی ہمارے اندر ایسی باتیں پیدا نہ ہوں اور ساتھ ہی ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے ہمیں توفیق عطا فرمائی کہ ہم نے زمانے کے امام کو مانا ہے جنہوں نے ہمیں بار بار ان لغویات سے بچنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ لغویات کے بارے میں بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : " رہائی یافتہ مومن وہ لوگ ہیں جو لغو کاموں