خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 466
خطبات مسرور جلد 14 466 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 ستمبر 2016 باتیں مل جاتی ہیں۔یہ کوئی نہیں کہ سکتا کہ ہمیں کچھ نہیں ملایا ہم بہت بڑے عالم ہیں۔جتنے مرضی بڑے عالم ہوں کوئی نہ کوئی بات مل جاتی ہے یا کم از کم یاد دہانی ہو جاتی ہے۔اس لئے انہیں غور سے سننا چاہئے۔اپنی روحانیت کو بڑھانے کے لئے اللہ کی عبادت کا حق ادا کریں اور پھر حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ رہنی چاہیئے۔یہاں جھگڑے اور جدال کا سوال نہیں کہ جھگڑا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔جلسہ سے حقیقی فیض پانے کے لئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کا وارث بننے کے لئے یہ نہیں کہ جن کے پرانے جھگڑے چل رہے ہیں وہ یہاں آ کے جھگڑے کریں بلکہ ان کو بھی ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر صلح کر کے ان کو ختم کرنا چاہئے۔اپنی انانیت کو ختم کریں۔مجھے علم ہے کہ ہر سال جلسے پر بعض خاندانوں میں، بعض لوگوں میں بعض پرانی باتوں کی وجہ سے بد مزگیاں لوگوں میں پیدا ہو جاتی ہیں۔اور بعض لوگ آپس میں لڑ بھی پڑتے ہیں۔جلسہ پر تو ہر ایک یہاں آیا ہوتا ہے۔دوناراض گروہوں کا یا لوگوں کا آمنا سامنا ہو جاتا ہے۔یہاں تو ہر احمدی نے آنا ہے۔اس لئے یہ نہیں ہم کہہ سکتے کہ وہ کیوں جلسہ پر آیا اور وہ کیوں نہیں آیا۔ناراض لوگوں میں، عورتوں میں بھی اور مردوں میں بھی جب اس طرح ان کی پرانی ناراضگیاں چل رہی ہوں تو جب ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں تو تیوریاں چڑھنی شروع ہو جاتی ہیں۔ماتھے پر بل پڑنے شروع ہو جاتے ہیں۔پھر بعض دفعہ بعض لوگ دُور سے ہی یا چلتے چلتے کوئی نہ کوئی طنز یہ فقرہ کہہ جاتے ہیں اور اظہار یہ ہوتا ہے کہ جس طرح ہم نے ان کو نہیں کہا بلکہ ویسے ہی بات کہی حالانکہ حقیقت میں وہ چڑانے کے لئے یا جان بوجھ کر کہا جاتا ہے۔اور دوسرا فریق جو پہلے ہی دل میں پیچ و تاب کھا رہا ہوتا ہے وہ بھی غصہ میں کچھ کہہ دیتا ہے۔گویا ایک لغو حرکت سے پھر اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر نکلتے ہیں اور پھر بعض دفعہ لڑائی تک نوبت آجاتی ہے۔اگر کسی کو اپنے جذبات پر کنٹرول نہیں ہے تو بہتر ہے کہ جلسہ کے ماحول سے پہلے ہی خود ہی باہر چلے جائیں۔جلسہ میں شامل نہ ہوں۔دو چار لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں جو جماعت کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں اور جلسہ پر آکر بجائے جلسہ کی برکات سے حصہ لینے کے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی حاصل کرنے والے بن جاتے ہیں۔کیا کبھی اللہ تعالیٰ پسند کرے گا کہ ایک نیک مقصد کے لئے جمع ہونے والے مومن اپنی روحانی ترقی اور نیک مقاصد حاصل کرنے کی بجائے فتنہ و فساد کو بڑھانے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ نے جب کامیابیاں حاصل کرنے والوں کے بارے میں فرمایا تو عاجزانہ نمازوں کے بعد لغویات سے پر ہیز کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قَد أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ هُمْ فِي صَلوتِهِمْ خَاشِعُوْنَ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المؤمنون: 2-4) یقینا کامیاب ہو گئے وہ مومن جو اپنی نمازوں میں خشوع کرتے ہیں اور لغویات سے بچنے والے ہیں۔پس یہاں ایک نیک مقصد کے لئے آئے ہیں۔نمازوں میں تو تقریباًہر ایک شامل ہوتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ