خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 465 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 465

خطبات مسرور جلد 14 465 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 ستمبر 2016 یقینا آپ نے اصلاح کے لئے یہ بڑی حقیقی اصولی بات بیان فرما دی۔یہ نہیں ہم کہتے کہ جلسہ کا مقام خدا نخواستہ حج کا مقام ہے یا اب جیسے بعض غیر احمدیوں نے ہم پر الزام لگانا شروع کیا ہوا ہے کہ ہم قادیان جاتے ہیں اس لئے اسے حج کا مقام دیتے ہیں، یہ غلط ہے۔لیکن دینی ترقی کے حصول کے لئے اور اپنی اصلاح کے لئے یہ بنیاد ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایک بنیاد فرما دی کہ جہاں بڑے اکٹھ ہوں، مجمعے ہوں ان باتوں کا بھی خیال رکھو۔اور اگر ہم دینی ترقی کے لئے ، اپنی اصلاح کے لئے جمع ہونے والے جلسہ میں ان باتوں کا خیال رکھیں گے تو ہماری اصلاح کے معیار بڑھیں گے۔جلسہ ایک عبادت تو نہیں لیکن ٹریننگ کیمپ ضرور ہے جو روحانیت میں ترقی کے لئے جاری کیا گیا ہے۔اس میں ہم اگر بد کلامی، گالیاں دینے ، گندی اور بیہودہ باتیں کرنے، قصے سنانے کے کام کریں گے تو مقصد نہیں پورا ہو سکتا۔تو اس میں ہمیں ان سب چیزوں سے بچنا ہے۔اگر ہم لغو باتوں سے بچیں گے اور لغو گفتگو سے بچیں گے تو یقینا ایک پر سکون اور پر امن اور نیکیاں بکھیر نے والا ماحول پیدا ہو گا اور جلسے کا مقصد پورا ہو گا۔پھر فسوق جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر نکلنے کا گناہ ہے اس سے بچنا ہے۔یہ ضروری چیز ہے کہ ہم کامل طور پر جب دینی مقصد کے لئے آئے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا جو اپنی گردن پر ہمیشہ ڈالے رکھیں۔ا پس خلاصہ یہ کہ قرآن کریم کی تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کرتے ہوئے ہم نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق بھی ادا کرنا ہے اور باقی احکامات پر عمل بھی کرنا ہے۔پھر ایک انتہائی عمل جو تعلقات کو توڑنے کا ذریعہ بن جاتا ہے اور پھر یہ تعلقات سالوں ٹوٹے رہتے ہیں، جھگڑے چلتے رہتے ہیں، ان سے بچنے کا حکم دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ کی جو اغراض بیان فرمائی ہیں وہ حقیقتا انہی تین باتوں کے گرد گھومتی ہیں کہ ہمیں اپنی اصلاح کا موقع ملے۔اپنے نفس کی اصلاح ہو۔فضولیات سے پر ہیز ہو۔اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ پید اہو۔اور اس کے حکموں پر کامل اطاعت سے چلنے کی طرف خاص توجہ پید اہو۔اور اپنے بھائیوں سے خاص رشتہ محبت اور بھائی چارے کا قائم ہو۔اور ہر قسم کی خود غرضی اور جھگڑے کو ختم کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب ایک سال یہ دیکھا کہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے حق ادا کرنے کی طرف توجہ نہیں دے رہے اور خود غرضی بعض لوگوں پر غالب آگئی ہے اور بعض چھوٹی چھوٹی باتوں پر بحث مباحثہ اور جھگڑے کی صورت بنی ہے تو آپ نے ناراضگی کا اظہار فرماتے ہوئے ایک سال جلسہ ہی منعقد نہیں فرمایا تھا۔(ماخوذ از شہادۃ القرآن۔روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 394) پس جلسہ میں شامل ہونے والے ہر شخص کو یہ یادر کھنا چاہئے کہ اس نے جہاں ان دنوں میں ہر چھوٹی سے چھوٹی بات میں اپنے نفس کی اصلاح کی طرف توجہ دینی ہے، اپنا وقت اِدھر اُدھر ضائع کرنے کی بجائے جلسہ میں شامل ہونے کے مقصد کو پورا کرتے ہوئے جلسہ کا تمام پروگرام سننا ہے۔ہر مقرر کی تقریر میں اصلاح اور نیکی کی