خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 464 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 464

خطبات مسرور جلد 14 464 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 ستمبر 2016 ماحول کی وجہ سے ہر حج کرنے والے سے یہی توقع رکھی جاتی ہے کہ اس کو اس پاکیزہ ماحول کی وجہ سے کسی اور بات کا خیال نہیں آسکتا سوائے ذکر الہی کے، تسبیح کے اور تحمید کے۔لیکن اللہ تعالیٰ جو انسانی فطرت کو جانتا ہے اس نے تین برائیوں کی طرف بھی اس موقع پر توجہ دلا دی کہ تم نے ان چیزوں سے بچ کر رہنا ہے۔پس ماحول جیسا بھی پاکیزہ ہو انسان کو ہر وقت شیطان کے حملوں سے بچنے کی دعا کرتے رہنا چاہئے اور ہوشیار ہو کر اس طرف توجہ رکھنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے حج کرنے والوں کو جن تین برائیوں سے بچنے کی طرف توجہ دلائی ہے ان میں سے پہلی فرمایا رفت ہے۔شہوانی باتیں تو اس کا ترجمہ کیا ہی جاتا ہے لیکن اس کا مطلب بد کلامی کرنا، گالیاں دینا، گندی اور بیہودہ باتیں کرنا، گندے قصے سنانا، فضول اور لغو باتیں کرنا، گئیں وغیرہ مارنا، بیٹھ کے مجلسیں جمانا، یہ سب بھی اس میں شامل ہیں۔پس یہاں وضاحت سے ہر قسم کی لغویات، فضولیات اور گپیں لگانے کی مجالس سے منع فرما دیا۔کوئی یہ نہ سمجھے کہ حج پر جاکر یہ باتیں کون کرتا ہو گا۔وہاں تو خالص ہو کر ہر ایک جو بھی حج پر جاتا ہے اس سے یہی توقع رکھی جاتی ہے کہ اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ پر مار کر رہا ہو تا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جب حج پر گیا تو ایک نوجوان میرے ساتھ طواف کر رہا تھا تو طواف کرتے ہوئے بجائے دعاؤں اور ذکر الہی کے وہ فلمی گانے گار ہا تھا۔ہندوستان سے گیا ہو اتھا۔تو میں نے اس سے کہا یہ تم کیا کر رہے ہو۔تو کہنے لگا مجھے تو دعائیں وغیرہ آتی کوئی نہیں کہ حج پہ کیا کی جاتی ہیں۔ہم کاروباری آدمی ہیں۔کلکتے میں ہماری کپڑے کی بڑی دکان ہے۔ہمارے مقابلے پہ ایک اور بڑی کپڑے کی دکان ہے۔بڑے کاروباری لوگ ہیں۔ان مالکوں میں سے ایک حج کر کے آیا۔اس نے اپنی دکان کے بورڈ پر حاجی بھی اپنے نام کے ساتھ لکھ لیا ہے۔لوگوں کی اس طرف اس وجہ سے زیادہ توجہ ہو گئی کہ حاجی صاحب کی دوکان ہے اچھا مال دیتے ہوں گے۔تو میرے باپ نے مجھے کہا کہ میں تو حج پر جا نہیں سکتا بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے (جو بھی وجہ ہو)، تم حج پر جاؤ تا کہ ہم بھی اپنا بورڈ لگا لیں۔تو میرا تو یہ مقصد ہے کہ کاروبار کو بڑھانے کی نیت سے میں حج کر رہا ہوں۔پس جب حج پر اس مقصد کے لئے لوگ جاسکتے ہیں تو پھر کسی اور عبادت یا جلسے پر کیا سوچ نہیں ہو سکتی۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حج کے دنوں میں فسوق نہیں کرنا۔یعنی اطاعت اور فرمانبرداری سے باہر نہیں نکلنا۔اللہ تعالیٰ کے حکموں کو ماننا ہے۔جو نیکی کا راستہ تم نے اختیار کیا ہے اس کو اختیار کئے رکھنا ہے اور برائی کی طرف نہیں جھکنا۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حج کے دنوں میں جدال یعنی ہر قسم کے جھگڑے سے، لڑائی سے مکمل طور پر بچنا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ ہمارے جلسوں پر بھی اگر اس سوچ کے ساتھ لوگ آئیں جو اصول اللہ تعالیٰ نے حج کے دوران برائیوں سے رکنے کا بیان کیا ہے تو غیر معمولی اصلاح ہو سکتی ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 23 صفحہ 567-566)