خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 463
خطبات مسرور جلد 14 463 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 ستمبر 2016 اور اس کا مقصد افراد جماعت کی اصلاح تھی۔اس کا مقصد خدا تعالیٰ کی طرف کھینچے جانے کی کوشش کرنا تھا۔علم و معرفت میں ترقی کرنا تھا۔پاک تبدیلیاں پیدا کر کے انہیں اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا تھا۔دنیا کی چاہتوں اور لغویات سے اپنے آپ کو بچانا تھا۔اسلام اور احمدیت کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کا عہد و پیمان کرنا اور اسے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کے ساتھ پورا کرنا تھا۔آپس میں محبت، پیار اور بھائی چارے کے رشتے کو بڑھانا تھا۔(ماخوذ از شهادة القرآن۔روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 394) پس پہلوں نے اس کام کو خوب نبھایا۔قادیان کی چھوٹی سی بستی کے جلسوں میں اللہ تعالیٰ نے اتنی برکت ڈالی کہ آج اس نہج پر دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں جہاں جہاں جماعتیں قائم ہیں جلسے منعقد ہو رہے ہیں اور ان جلسوں کا بھی وہی مقصد ہے جو قادیان کے جلسہ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا تھا اور جس کا میں نے مختصر اا بھی ذکر کیا ہے۔پس اگر تو ہم اس مقصد کے لئے آج یہاں جمع ہوئے ہیں تو ہم خوش قسمت ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں گے۔اگر کسی میلے کے تصور کے ساتھ یہاں آئے ہیں یا ہم میں سے کوئی بھی آیا ہے تو یہ بد قسمتی ہو گی کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک نیک مقصد کے لئے جمع ہونے کے لئے کہا اور ہم جمع بھی ہوئے لیکن نیک مقاصد کے حصول کے بجائے دنیاوی باتوں میں پڑ جائیں۔پس یہاں آنے والا ہر احمدی یہ بات مد نظر رکھے کہ ان تین دنوں میں دنیا سے بالکل قطع تعلقی کرلے اور اس کے بعد بھی دنیا میں رہنے کے باوجود، دنیاوی کاموں میں پڑنے کے باوجود کہ یہ بھی ضروری چیز ہے ، دنیاوی کام، روز گار ہے، کاروبار ہے ، ضروری ہے۔لیکن اس کے باوجود ان نیکیوں کو جاری رکھنے کی کوشش کرنے کا عہد کر کے جائیں جو یہاں آپ میں پیدا ہوئیں تاکہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بنتے رہیں۔ان دنوں میں فرض اور نفل عبادتوں کے علاوہ ذکر الہی بھی کرتے رہیں۔ذکر الہی سے خیالات پاک رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ رہتی ہے اور انسان برائیوں سے بچارہتا ہے۔یہی مقصد عبادات کا ہے۔اور ذکر الہی لازمی عبادات کی طرف بھی توجہ دلاتی رہتی ہے۔اور پھر اگر انسان حقیقی عبادت، صحیح عبادت کر رہا ہے تو پھر اس کی وجہ سے ذکر الہی کی طرف توجہ رہتی ہے۔پس اس بات کو ہر ایک کو یادرکھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے اسلام میں عبادت کا ایک رکن رکھا ہے جو ہر حالت میں ہر مسلمان پر تو فرض نہیں لیکن اس کے باوجو د لاکھوں مسلمان ہر سال اس فریضے کو سر انجام دیتے ہیں یعنی حج بیت اللہ کا فریضہ۔چند دن تک انشاء اللہ تعالیٰ یہ فریضہ انجام دیا جائے گا۔جہاں اللہ تعالیٰ نے حج کی عبادت کی طرف توجہ دلا کر مسلمانوں کو یہ کہا کہ اپنی تمام تر تو جہات ان دنوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف رکھو کہ اس کے بغیر حج کا مقصد پورا نہیں ہو تا، وہاں اس طرف بھی توجہ دلائی کہ مجمع کی وجہ سے، ایک جگہ جمع ہونے کی وجہ سے بعض برائیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔باوجود اس کے کہ حج کے